خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 515
خطبات طاہر جلد 14 515 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ بَلُغُ رِبَلُ : فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفُسِقُونَ صلى الله پس اے محمد ! جب میں کہتا ہوں تو مراد ہے اللہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا لیکن آیت میں نام مذکور نہیں ہوتا، ضروری نہیں ہے مگر واضح ہوتا ہے قطعی طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی مخاطب ہیں۔فَاصْبِرُ جب کہتے ہیں تو مراد ہے اے رسول اے محمد ! فَاصْبِرْ۔پس صبر کر كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ایسا صبر کر جیسا رسولوں میں سے اولوالعزم کیا کرتے تھے یعنی عام نبیوں والا صبر بھی نہیں تو رسولوں میں سے بھی صبر کے معیار میں بھی کچھ بہت بلند تھے ان کو پیش نظر رکھ کیونکہ تو خاتم النبین ہے تجھ سے تمام اخلاق میں سے بہترین کی توقع کی جاتی ہے پس صبر کر كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ رسولوں میں سے جو أولُوا الْعَزْمِ تھے جیسا صبر انہوں نے کیا اس طرح صبر کر۔وَلَا تَسْتَعْجِلُ لَّهُمْ اور ان کے لئے جلدی نہ چاہ ، کن کے لئے جلدی نہ چاہ کفار کے لئے ظلم کرنے والوں کے لئے ، جن کے مقابل پر جن کی اذیتوں پر صبر کیا جارہا ہے۔اس میں ایک تو ظاہر معنی ہے کہ ان پہ بددعا کے لئے جلدی نہ کر اور دوسرا ہے ان کا انجام دیکھنے میں جلدی نہ کر ، جب وقت آئے گا تو ان کا انجام ظاہر ہو جائے گا عام طور پر ترجمہ کرنے والے بد دعا ہی کی طرف جاتے ہیں مگر تستعجل میں ہر قسم کی بات شامل ہے بعض دفعہ انسان فتح دیکھنے کے لئے بھی بے قراری دکھاتا ہے کہ کیوں دیر ہورہی ہے جلد فتح کیوں نہیں آتی۔چنانچہ اسی مضمون کو قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان فرمایا کہ وہ کہتے ہیں۔مَتَى نَصْرُ اللهِ (البقرہ: 215) وہ بھی تو جلدی کرتے ہیں کہ کہاں گئی اللہ کی نصرت، کیوں نہیں آ رہی۔تو فرمایا کہ اُولُوا الْعَزْمِ جو تھے انبیاء میں سے وہ نہ عذاب میں جلدی چاہا کرتے تھے نہ فتح کے لئے ایسی بے قراری دکھاتے تھے کہ صبح شام دیکھیں کہ کیوں ابھی فتح نہیں آئی۔یہ اللہ کا کام ہے خدا کی رضا پر راضی رہ اور جان لے کہ تیری دعائیں ضرور اثر دکھا ئیں گی۔تیری کوششیں ضرور بار آور ثابت ہوں گی۔گھبرانے کی بات نہیں دعا کرتا چلا جا کرتا چلا جا، یہ الہ کا کام ہے کہ جب چاہے گا اس کی سزا کی تقدیر ظاہر ہوگی جب چاہے گا اس کی جزا کی تقدیر ظاہر ہوگی اور یہ دونوں تقدیریں