خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 517
خطبات طاہر جلد 14 517 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء مومنوں کو بچایا جاتا ہے فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَسِقُونَ فاسقوں کے سوا اور کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا ، یہ ایک عمومی دستور ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ حادثہ بھی کوئی مومن نقصان نہیں اٹھاتا۔مگر قوم کا جب موازنہ قوم سے کیا جاتا ہے تو بلاشبہ مومن حیرت انگیز طور پر امن کی حالت میں رہتے ہیں، امن کے سائے تلے رہتے ہیں اور دشمن ہی ہے جو ہلاک کیا جاتا ہے۔پھر صبر کے مضمون کو اور کھولتے ہوئے فرمایا وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ یہ سورہ نحل آیت 128 ہے کہ تو صبر کر لیکن صبر اللہ کی خاطر کر۔صل الله وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ محمد رسول اللہ ﷺ کے صبر کی کیفیت بیان فرمائی گئی ہے اس کا ایک معنی تو یہ بھی کیا جاتا ہے وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ کہ صبر کر اے محمد اور تیرا صبر محض اللہ ہی کے حوالے سے ہونا چاہئے۔میرے دل میں کھبتا ہے، جس پہ مجھے اطمینان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اے محمد صبر کر اور تیرا صبر اللہ کے حوالے کے سوا ہے ہی نہیں۔تمام تر تیرا صبر محض اللہ کی خاطر ہے وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ اور اس کے باوجود فرمایا ان پر غم نہ کر۔اب یہاں بظاہر ایک تضاد دکھائی دیتا ہے۔اللہ کہتا ہے غم نہ کر، محمد رسول الله غم میں مبتلا ہیں۔کیا نعوذ باللہ من ذالک یہ بھی ایک نافرمانی کا انداز تھا۔ہرگز نہیں کیونکہ جہاں پیار کی نصیحت ہو وہاں حکم نہیں ہوا کرتا ، وہاں دلداری کا ایک انداز ہوا کرتا ہے، یہاں وَلَا تَحْزَنْ سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ اللہ ناراض ہوگا اگر تو حزن کرے گا۔فرمایا کہ ہم تجھے دیکھ رہے ہیں کہ حزن کی حالت میں مبتلا ہے یعنی تیرا صبر رحمت کے نتیجے میں ہے غصے کے نتیجے میں نہیں، بے اختیاری کے نتیجے میں نہیں۔اگر مظلوم بے اختیار ہو کر صبر کر رہا ہو تو بعض دفعہ بہت سخت غصے کے خیالات اس کے دل سے اٹھتے ہیں، اہلتے ہیں۔بعض لوگ اس حالت میں پاگل ہو کر گالیاں بکنے لگ جاتے ہیں اور ان کی باقی ساری زندگی اپنے صبر کے زمانے کے غیظ و غضب کو گند کی صورت میں اچھالتی رہتی ہے، ہر وقت ان کے منہ سے بکواس نکلتی ہے۔ایسے پاگل ہم نے بھی دیکھے ہیں کیونکہ ان پر کسی نے ظلم کیا ہوا ہے وہ ظلم اندر اندر ان کو کھا جاتا ہے کیونکہ بے اختیار ہوتے ہیں اس لئے جب وہ اپنا کنٹرول چھوڑ دیتے ہیں جب ان میں نظم و ضبط کی طاقت باقی نہیں رہتی تو ہر وقت غیظ و غضب اچھلتا ہے لیکن وہ شخص جس کو رحم آ رہا ہو اور غضب یا انتقام کا جذ بہ نہ اٹھے اس کے لئے کسی قسم کے غصے کا اظہار یا گالی گلوچ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وہ دن بدن دل ہی دل میں گھلتا چلا جائے گا۔