خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد 14 45 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 1995ء کئی دفعہ خود بھی دیکھا بعض عورتیں مرغی کے انڈوں کے ساتھ مختلف انڈے رکھنے کے شوق رکھتی ہیں اور دیہات میں ایسے واقعات نظر آتے تھے، کسی پرندے کا انڈا اٹھالیا کسی بطخ کا انڈا اٹھالیا تو جو مخلوق پیدا ہوتی ہے وہ عجیب سی مخلوق اٹھ رہی ہوتی ہے۔انسانی زندگی میں واقعہ ایسے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں اور اس کی وجہ کیا ہے یہ میں آپ کو سمجھاتا ہوں اس آیت کی تشریح میں۔وجہ یہ ہے کہ دراصل بچپن ہی سے جب ماں باپ ان بچوں کی دلچسپیوں کے رخ بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو خودان سے مرعوب ہوتے ہیں اور اس بات کا حوصلہ نہیں رکھتے ، اعتماد نہیں رکھتے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ یہ تمہارے رجحانات غلط ہیں ، یہ ادنی ہیں اور اعلیٰ اقدار سے ہٹ کر تم گھٹیا چیزوں کو اپنا رہے ہو۔ان کے دل پر ان باتوں کا رعب موجود ہوتا ہے گویا کہ خود تو وہ بے اختیار طور پر خدا کے رستوں پر چلتے رہے یعنی ان کے ماں باپ نے ان کو ڈال دیا مگر دل کی گہرائی میں ان رستوں کی اتنی قدر و قیمت نہیں جتنی باہر کی دنیا کے اطوار کی قدرو قیمت ان کے دل میں جاگزیں ہوتی ہے۔خود تو وہ رستہ نہیں بدل سکتے مگر جب اولا دکو اٹھتا ہوا د یکھتے ہیں ان رستوں پر تو اس سے مرعوب ہوتے ہیں۔ان کو یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ اپنے بچے کو کہیں کہ یہ تم نے کس قسم کے پاجامے شروع کر دیئے ہیں، یہ تم نے کس قسم کے گلوں میں ہار ڈال لئے ہیں۔بالوں کا رخ کیا بنارہے ہو، پاگل ہو گئے ہو۔یہ کیسی بدذوقی کی باتیں ہیں جو تم کر رہے ہو، یہ کہنے کی ان کو ہمت ہی نہیں ہوتی آنکھوں کے سامنے لڑکیاں اپنے پر پرزے نکال رہی ہیں۔وہ تنگ جینز پہن رہی ہیں ، بالوں کے حلیے بگاڑ رہی ہیں اور اپنی مرضی سے جہاں چاہیں چلی جاتی ہیں اور ماں باپ کو یہ حوصلہ نہیں کہ ان کو سمجھا سکیں۔دراصل وہ پہلے خدا کو بھلا بیٹھے ہیں اگر انہوں نے خدا کو نہ بھلایا ہوتا تو ناممکن تھا کہ اس قسم کے بچوں کو اپنے گھر میں بے روک ٹوک پلنے دیں لیکن چونکہ بنیادی طور پر ان کے ماں باپ نے تربیت ایسی کی ہوئی ہے کہ خود مذہب کی کھلم کھلا بغاوت نہیں کر سکتے اس لئے وہ مذہب رکھتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو لا مذہب بنانے میں مددگار بن جاتے ہیں اور یہ نسل ایسی ہے جو گویا اس آیت کا مصداق بن جاتی ہے وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللهَ فَأَنَسهُمْ أَنْفُسَهُمْ تم نے حقیقۂ خدا کو بھلا دیا خواہ ظاہری طور پر اس کی ذات سے تم پیوستہ ہی رہے تو تم دیکھو گے کہ تمہاری اولا د آگے خدا کو بھلانے والی ہو جائے گی اور اس پر تمہارا کوئی بس نہیں چلے گا۔