خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 44

خطبات طاہر جلد 14 44 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء محاورہ ثابت ہے یہاں صرف ان کی ذات نہیں بلکہ ان کی اولادیں ، ان کی آگے آنے والی نسلیں سب لفظ أَنْفُسَهُمُ میں شامل ہیں تو یہ بات ہمیں سمجھائی گئی کہ آئندہ نسلوں کی حفاظت کے لئے اپنے حال سے باخبر رہنا اور خدا تعالیٰ کو یا درکھنا ضروری ہے۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو خدا تمہیں گویا تمہاری اپنی نسلوں کو بھلا دینے کا مرتکب کر دے گا یعنی نتیجہ وہ یہ نکالے گا جیسے تم نے عملاً خود جان بوجھ کر اپنی نسلوں کو بھلا دیا ہے اور ان کے مفادات سے غافل ہو گئے ہو اور بے خبر ہو گئے۔یہ مضمون ہے جس کا تعلق ہر نسل کے جوڑ سے ہے اور اس کے راز کو اگر انسان سمجھ جائے تو آئندہ نسلوں کی تربیت کا راز پالے گا۔مغربی دنیا میں خصوصیت سے یہ آواز بار بار اٹھتی ہے کہ ہمارے بچوں کا کیا بنے گا۔بعض لوگ اپنے بچوں کے متعلق اس وقت بتاتے ہیں جبکہ بات میں دیر ہو چکی ہوتی ہے ، جب معاملہ حد استطاعت سے آگے نکل چکا ہوتا ہے اور عجیب سی بات دکھائی دیتی ہے کہ ماں باپ تو دین پر قائم دکھائی دیتے ہیں ان کے دل میں خواہش بھی ہے کہ نیک رہیں لیکن بچے وہ جن کی آنکھوں سے دین کا تعلق کلیۂ مٹ چکا ہوتا ہے ، وہ اجنبی آنکھیں بن جاتی ہیں۔ان کے سامنے وہ بڑے ہور ہے ہیں ان کا رہن سہن ، طرز بود و باش ، ان کی دلچسپیاں بالکل مختلف دائروں سے تعلق رکھتی ہیں یعنی کسی کے گھر میں کوئی اور بچہ پیدا ہو جائے جیسے جانوروں میں تو یہ دکھائی نہیں دیتا مگر اگر مرغی کے بچوں میں بطخ کا انڈہ رکھ دو تو ویسا ہی منظر پیدا ہو گا کہ باقی چوزے مرغی کے چوزے نظر آئیں گے اور ایک بیچ میں بطخ کا چوزہ بھی آجائے گا۔تو اللہ تعالیٰ نے جو تربیت کا مضمون ہمیں سمجھایا ہے اس کا یہی نظارہ سامنے آتا ہے کہ اگر تم نے خدا کو بھلا دیا تو پھر تمہاری نسل تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی اور یوں محسوس ہو گا گویا تم نے خود اپنی نسل کو بھلا دیا ہے۔ایسے لوگوں کا جب میں نے جائزہ لیا اور ایک لمبے عرصے سے مجھے اس میں دلچسپی ہے یعنی خلافت کی ذمہ داریاں تو چند سال سے ہیں لیکن جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اس مضمون میں مجھے ہمیشہ دلچسپی رہی کہ بعض نیک لوگوں کے ہاں ایسے بچے کیوں نکل آتے ہیں جو ان کے مزاج کے برعکس مزاج لے کر پلتے ہیں اور ان کی دلچسپیوں کو چھوڑ کر الگ دلچسپیوں میں متوجہ رہتے ہیں ،ان کے دائرے بدل جاتے ہیں جیسے چوزوں کے اندر کوئی بیخ کا بچہ آجائے۔وہ Ugly Ducking ہوتے ہیں۔ایسے عجیب و غریب مناظر بھی آپ کو دکھائی دیتے ہیں ہم نے