خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد 14 46 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء ایسے بہت سے نظارے ہم نے دیکھے اور اب بھی دیکھتے ہیں۔بعض دفعہ ماں باپ کی طرف سے اطلاع ملتی ہے کہ آپ کو تکلیف تو بہت ہوگی مگر میں مجبور ہوں بے اختیا رہوں میری بیٹی نے عیسائی سے شادی کر لی ہے، میری بیٹی فلاں شخص کے ساتھ آمادہ ہوگئی ہے، کوئی سکھ کے پاس جارہی ہے، کوئی ہندو کے پاس چلی گئی ہے، یہ واقعات جماعت کے تعلق میں بہت شاذ ہیں۔لیکن شاذ ہونے کے باوجود چونکہ ایک سفید چادر کے داغ ہیں اس لئے نظروں کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔ایک ایسی چادر کے داغ ہیں جس پر عموما یہ دھبے دکھائی دیتے نہیں ہیں اور اس کے بعد ان کے ماں باپ کا یہ لکھنا یا پیغام بھیجنا کہ ہم بے بس ہیں اور بے اختیار ہیں ، ہمارا کوئی قصور نہیں ، ہمیں معاف کیا جائے۔ان کو میں لکھتا ہوں کہ معافی مجھ سے کیا مانگتے ہو یہ تو اللہ سے معافی مانگنے والی باتیں ہیں۔جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے جو لوگ تم سے الگ ہو گئے وہ اپنے ذمہ دار ہیں ان کی سزا تمہیں نہیں ملے گی لیکن قانون قدرت جو تمہیں سزا دے گا اس کی معافی خدا سے مانگو۔اس میں میں بالکل بے اختیار اور بے بس ہوں ، مجھ میں طاقت ہی نہیں کہ میں تمہیں معاف کرسکوں اور یہ وہ نظام ہے جو سزا کا ایک جاری نظام ہے۔ایسے موقع پر بہت دیر کے بعد ان ماں باپ کو سمجھ آتی ہے کہ ہم نے شروع میں خدا کو بھلائے رکھا تھا کیونکہ یہ ایسے بچے ایک دن میں نہیں بنا کرتے۔اچانک مرغی کے انڈوں سے بطخ کے بچے نہیں نکلا کرتے وہ شروع ہی سے ان کی پیدائش کے آغاز ہی سے کچھ باتیں ان کے اندر ایسی داخل ہو جاتی ہیں جو ان کا کریکٹر ہیں اور وہ کریکٹر اچانک نہیں بنتا۔یہ ایک لمبا نفسیاتی مضمون ہے لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ جو ماں باپ دونوں اللہ سے محبت رکھتے ہوں وہ اپنے بچے کے آغا ز ہی سے ان کی ایسی حرکتوں سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں جو ان کو خدا سے دور لے جانے والی ہیں اور وہ وقت جبکہ وہ اثر قبول کرتے ہیں اس وقت وہ اپنی ساری طاقت استعمال کر لیتے ہیں ، دعائیں کرتے ہیں سمجھاتے ہیں، ان کے تعلق ایسے لوگوں سے بناتے ہیں جن کے نتیجے میں وہ خود بخود محفوظ ہونے لگتے ہیں یعنی ماحول ان کی حفاظت کرتا ہے تو ایسے بچوں کو پھر کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔پس یہ خیال غلط ہے کہ اچانک واقعہ ہوا ہے۔یہ تربیتی کمزوریاں پہلے ماں باپ کے دل میں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ان سے غافل رہتے ہیں تو اَنْفُسَهُمْ کے دونوں معنے صادق آتے ہیں کہ خدا ان کو اپنے نفس کے حالات سے بھی غافل کر دیتا ہے۔ان کو پتا ہی نہیں کہ اندرونی طور پر ہم کیا چاہ رہے