خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد 14 478 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء غیر معمولی شان سے آپ کی تائید فرمائے گا اور روزمرہ کی زندگی میں خدا تعالیٰ کے یہ تائیدی نشان دکھائی دیتے ہیں۔پس تمام داعیان الی اللہ کو یہ جہاد کرنا چاہئے کہ ذات حق سے تعلق جوڑنا ہے، ذات حق سے تعلق جوڑنا ہے تو صبر کرنا پڑے گا ، ذات حق سے تعلق جوڑنا ہے تو وہ تمام بنیادی صفات سے جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔جن کا حق سے تعلق ہے ان کو سمجھ کر ان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حق سے تعلق جوڑنا ہے۔میں نے یہ جو بیان کیا تھا مختصراً آپ کے سامنے دہراتا ہوں۔پہلی یہ بات تھی کہ حق ذات وہ ہے جس کو حمد کی ضرورت نہ ہو کیونکہ ہر حمد اسی کی ہے اس کو حمد کی احتیاج نہ ہو۔پس جھوٹا وہ ہے جس کو حمد کی احتیاج ہو۔تو آپ اللہ تو نہیں بن سکتے۔قابل تعریف ان معنوں میں تو نہیں ہو سکتے کہ سب حمد آپ کی ہو جائے لیکن حمد سے بے نیازی بھی ایک چیز ہے اور حق کی خاطر اگر آپ حمد سے بے نیاز ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کی صفت حمید میں سے ایک حصہ پالیں گے اور اسی حد تک آپ کے اندر حق کا نمائندہ بننے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی کیونکہ بہت سے جھوٹ بولنے والے جھوٹی تعریف کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں۔جھوٹی باتوں کو اپنا کر جھوٹی باتوں کی شیخیاں مار کے، جھوٹے اموال بتا کر اور کئی قسم کی ملمع سازیاں کر کے وہ فائدے اُٹھانا چاہتے ہیں۔پس حمید کو جو سچا حمید ہو جھوٹ کی ضرورت نہیں ہے۔اگر اس کمزوری پر آپ نے اپنی نگاہ نہ رکھی تو آپ کے اندر جھوٹ کی جڑیں قائم ہو جائیں گی۔یہ ہو نہیں سکتا کہ جب بھی آپ پر اپنی تعریف کروانے کا ابتلاء آئے اور آپ پہلے سے اس کے لئے تیار نہ ہوں اور اس ابتلاء میں کامیاب نکل جائیں۔پہلے تیاری کرنے ہوگی۔عام روز مرہ زندگی کی باتوں میں جہاں تعریف کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے۔آپ اچانک بیدار ہو کے دیکھیں کہ آپ کہیں ٹھوکر تو نہیں کھا رہے۔یہ روحانی ورزش ہے جو کرنی پڑتی ہے۔ایسے موقعوں پر ذہن کو بیدار رکھنا تا ہے۔اگر اس طرح آپ کریں گے تو جہاں آپ حمد سے مستثنیٰ ہو جائیں گے، بالا ہو جائیں گے، جہاں آپ کے اندر استغناء پیدا ہو جائے گا وہاں آپ حقیقت میں حق بولنے کی طرف ایک اور قدم اٹھا چکے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے بھی اور حضرت خالیہ اسمع الاول نے بھی ایک واقعہ بیان کیا جو دراصل غالباً حضرت خلیفتہ اسیح الاول ہی کا دیکھا ہوا واقعہ ہے جو حضرت مسیح موعود