خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد 14 479 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے اور آپ نے بھی اسے استعمال فرمایا ہے۔یہ وہ مضمون ہے که انسان احتیاج کے باوجود غنی ہو سکتا ہے۔اگر اس کے دل میں اس کی حرص باقی نہ رہے۔پس اگر حمد کی تمنا ہر وقت رہتی ہے اور دل یہی چاہتا ہے کہ لوگ تعریف کرتے رہیں تو ایسا خوشامد پسند سچا نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ میں نے ثابت کیا ہے سائنس کے قانون کے طور پر حساب کی رو سے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ ایسا حریص جو ہر وقت حمد کا خواہاں ہے اور حمد اس میں ہے نہیں کیونکہ حمد تو صرف خدا میں ہے یہ دو باتیں اکٹھی پڑھنی پڑتی ہیں۔حمد کا خواہاں ایک ایسا غریب ہے بے چارہ جوحمد کی صلاحیتوں سے عاری ہے وہ لازماً جھوٹ بول کر اپنی دلی تمنا تعریف کی پوری کرے گا۔پس یہ وہ تفصیل ہے جس میں جا کر آپ کو اپنی نگرانی کرنی ہو گی تب آپ حقیقی حق کا مضمون سمجھیں گے اور حق ہوگی کے مضمون کو اپنی ذات میں جاری کر سکیں گے۔دوسری بات میں نے یہ بیان کی تھی ربوبیت کی۔رزق کا احتیاج ہے جو جھوٹ بولنے پر مجبور کرتا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے بڑے جھوٹ جو ہیں ان کا تعلق اقتصادیات سے ہے اور اس معاملے میں تو بڑی بڑی مہذب قومیں بھی، بہت ترقی یافتہ ممالک بھی جھوٹ پر منہ مارنے سے ہرگز گریز نہیں کرتے اگر اس سے ان کی قومی یا ذاتی اقتصادیات کو فائدہ پہنچے اور آپ رب بن نہیں سکتے کیونکہ رب ہی ہے جو سب کا والی وارث ہے، سب کو دیتا ہے لیکن رزق کے احتیاج سے ان معنوں میں مستغنی ہو سکتے ہیں آپ اللہ کو رب سمجھیں اور کسی اور کو رب نہ سمجھیں اور حمد کے تعلق میں بھی یہی مضمون ہے جو آپ کو فائدہ دے گا۔ورنہ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو از خود اچانک آپ فیصلہ کر لیں ہم سچے ہو جائیں اور بچے ہو جائیں گے۔ان باریکیوں سے اس مضمون کو سمجھ کر اپنی ذات میں اس مضمون کو جاری کرنا ہوگا۔آپ حمید ذات سے تعلق جوڑیں اور اسی کو صاحب حمد سمجھیں پھر اگر حمد کی تمنا ہے تو وہیں سے پوری ہوگی۔دیکھیں اللہ تعالیٰ حمید ہے اور سب سے زیادہ حمد باری تعالیٰ کرنے والا احمد تھا یعنی حضرت محمد ﷺ اور سب سے زیادہ تعریف جس وجود کی کی گئی ہے وہ محمد ہے اور یہاں اللہ احمد بن گیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو محمد بنا دیا۔تو یہ حمد کا مضمون ہے اگر ایک انسان کامل طور پر تو کل کرے اور یقین رکھے کہ حمید صرف وہ ہے اور کوئی نہیں ہے اور تمام تر حمد اس کی طرف منسوب کر دے تو حمد کی خواہش صلى الله