خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 477

خطبات طاہر جلد 14 477 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء بھینس، گائے ، گھوڑی، اور پتا لگے کہ اس گاؤں تک پہنچی ہے تو سارا گاؤں چوروں کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوتا تھا کہ سوال ہی کوئی نہیں، ہمارے گاؤں میں تو آیا ہی کچھ نہیں اور میاں مغلے کو بعض دفعہ مارکوٹ کے بند کر دیا کرتے تھے کمرے میں کہ اس کا پتا ہی نہ چلے کہ کہاں ہے۔تو کہتے تھے کہ ہم تو نہیں مانیں گے، نہ قسمیں کھائیں گے، نہ گواہیاں مانیں گے ، میاں مغلا نکال کر لاؤ گے تو پھر ہم بات کریں گے۔تو اس بے چارے کو مجبوراً ان کے حجرے سے نکالنا پڑتا تھا اور میاں مغلا بیان کرتے تھے کہ اس وقت مجھے چٹکیاں کائی جاتی تھیں۔ساتھ ساتھ۔یاد دلانے کے لئے ہم بڑے ڈاہڈے لوگ ہیں، چھوڑیں گے نہیں۔تو وہ پھر بے چارے ٹالنے کی کوشش کرتے تھے۔وہ کہتے تھے دیکھو جی میں احمدی ہو گیا ہوں اور تم لوگ کہتے ہو یہ کافر ہے تو ان مومنوں کے مقابل پر کافر کی گواہی کا کیا مطلب۔چھوڑو پرے، دفع کرو۔یہ مومن گواہیاں دے رہے ہیں۔بس مان جاؤ۔تو وہ کہتے تھے کہ دیکھو تمہارے جیسے کافر کی گواہی کچی ، مومنوں کی جھوٹی ، اس لئے ہم نے تم سے پوچھنا ہے۔آخر وہ منہ سے بات نکلوا لیتے تھے۔وہ کہتے تھے مجھ سے پوچھنا ہے تو بھینس فلاں جگہ ہے۔چوری کی ہمارے اپنے بھائی نے ، فلاں نے کی ہے۔پھر ان کو مار پڑتی تھی۔اب ایسے موقع پر میں بتا رہا ہوں کہ صبر کی ضرورت ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ حق کی بات کرو گے تو صبر بھی دکھانا پڑے گا اور ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ہر دفعہ حق کے نتیجے میں اچانک غیب سے اعجاز ظاہر ہو۔صبر بھی ایک اعجاز ہے وہ سب سیچوں کو نصیب ہوتا ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے نصیب ملا کرتے ہیں ان کو یہ توفیق ملتی ہے کہ حق کی خاطر صبر کا نمونہ دکھا ئیں۔چنانچہ ایک عرصے تک وہ اسی طرح ماریں کھاتے رہے اور سچ بولتے رہے بالآخر گاؤں والوں نے یہی چاہا کہ یہاں سے چلا جائے انہوں نے بھی یہی فیصلہ کیا۔وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے قادیان میں آکر بیٹھ گئے۔اب اللہ کے فضل سے ان کی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر پہنچا دیا، بہت عزتیں بھی عطا کی ہیں۔تو وہ پرانے جو رسہ گیر تھے وہ رسہ گیر ہی رہے۔پس در حقیقت حق میں ایک طاقت وہ بالآخر ضرور آتا ہے اور علاقے میں جو شہرت ہوئی ہے اس کے نتیجے میں پھر احمدی بھی بہت ہوئے۔حق میں بہت بڑی طاقت ہے۔پس آپ لوگ اگر حق سے چمٹیں گے تو حق کے لئے قربانی کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا اور یہ بھی امید رہے گی کہ اللہ بعض دفعہ