خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 475

خطبات طاہر جلد 14 475 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء میں سے تھے اور ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سچائی اور روحانیت کا ایک مقام حاصل تھا۔وہ ایک عدالت میں کسی عہدے پر تھے جس کا افسر اعلی ڈپٹی کمشنر انگریز تھا۔اس زمانے میں اکثر ڈپٹی کمشنر انگریز ہی ہوا کرتے تھے یا غالباً تمام تر انگریز ہوتے ہوں گے۔بہر حال وہ انگریزی حکومت کے بڑے رعب داب کا زمانہ تھا ان کے بیٹے کی کسی سے لڑائی ہوگئی اور ان کے بیٹے بہت مضبوط اور قد آور پہلوان تھے اور پہلوانی کیا کرتے تھے تو جس طرح حضرت موسی" کے متعلق آتا ہے کہ ان کے ایک ہی سکے سے اس مد مقابل کی جان نکل گئی اور ان پر قتل کا مقدمہ بنا دیا گیا۔وہ ڈپٹی کمشنر خاص طور پر اس بات میں مشہور تھا کہ خواہ نا انصافی ہی کرنی پڑے اپنے انصاف کا شہرہ ضرور کرے اور سزاد ینے میں سختی کر کے وہ سمجھتا تھا کہ اس سے میرا بڑا شہرہ ہوگا اور بڑا رعب داب ہوگا کہ یہ نہیں کسی کو چھوڑتا کہ اس سے ڈر کے رہو، اس سے بچ کے رہو انہی کے دفتر میں حضرت سید حامد شاہ صاحب ایک عہدے پر فائز تھے تو اس نے کہا کہ اب یہ ٹیسٹ کیس بن گیا اور اگر میں نے اس کو پھانسی پر چڑھا دیا تو بہت شہرت ہوگی کہ دیکھو کس شان کا ڈپٹی کمشنر ہے کہ انصاف کی خاطر اس نے اپنے عدالت کے ایک بڑے افسر کے بیٹے کی بھی پرواہ نہیں کی اس کو پھانسی لگا دیا لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا کسی کے پاس۔میر حامد شاہ صاحب کا ایک بڑا رعب داب ایک بڑا اثر ورسوخ تھا اور ضرورت اس بات کی تھی کہ اعتراف کیا جائے کہ ہاں ہم نے قتل کیا ہے اگر میر حامد شاہ صاحب کا بیٹا کہتا کہ میں نے نہیں کیا تو کسی کو جرات نہیں تھی کہ ان کے خلاف گواہی دے۔ڈپٹی کمشنر بھی اس بات کو سمجھتا تھا۔اس نے میر حامد شاہ صاحب کو بلایا اور کہا کہ میں نے سنا ہے اور یہ کیس درج ہو چکا ہے۔تو جہاں تک میں سمجھتا ہوں آپ سچ بولتے ہیں آپ بتائیں یہ واقعہ یوں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک میر اعلم ہے ہوا ہے۔اس نے مکا را مارا تھا اور مر گیا تھا تو اس نے کہا پھر یہ بتائیں کہ آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ کا بیٹا جھوٹ بول کر اپنی جان بچائے۔انہوں نے کہا بالکل نہیں۔انہوں نے بیٹے کو بلایا۔انہوں نے کہا دیکھو تم سے یہ واقعہ ہوا ہے۔اس نے کہا جی یہ ہوا ہے۔تو پھر مان جاؤ۔اس نے کہا مان گیا اور کیا چاہئے اور اقرار کر لیا کہ ہاں مجھ سے قتل ہوا ہے۔اب ڈپٹی کمشنر کی نیتیں جو بھی تھیں لیکن حق میں ایک رعب ہوتا ہے۔ایک ایسی عظیم طاقت ہوتی ہے جو دوسرے کو مرعوب کر دیتی ہے۔باپ کا بیٹے کو قربان کرنے کے لئے اس طرح تیار ہو جانا جبکہ کوئی دوسری گواہی ایسی نہیں تھی جو اس کو ملزم کر سکے اور