خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 474

خطبات طاہر جلد 14 474 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء میرے سامنے کئی ایسے موجود ہیں جو بہت ہی اعلیٰ سچائی کے معیار پر پورا اترتے تھے اور زیادہ باتیں کرنی نہیں آتی تھیں۔بعض ایسے بھی تھے جن کو خدا تعالیٰ نے زبان کی طاقت بھی عطا کی تھی فصل الخطاب بھی عطا کیا تھا اور بچے بھی تھے ان کی تبلیغ میں بہت زیادہ برکتیں تھیں لیکن کم گو بھی جو سچا تھا وہ ایسے انسان کے مقابل پر جو چرب زبان تھا ہمیشہ تبلیغ میں زیادہ غالب آتا ہے، زیادہ کامیاب رہا ہے۔میں نے کثرت سے وقف جدید کے معلمین میں اس کی مثال دیکھی ہے اور ایک جگہ بھی اس میں استثناء نہیں پایا۔کئی چوپ زبان معلم ہوا کرتے تھے وہ اپنا جس طرح بھی ہو جس کو کہتے ہیں الوسیدھا کرنا، موقع پر کسی وقت چالاکیاں کر کے، ہوشیاریوں سے اپنے آپ کو غالب کر ہی لیتے ہیں یا غالب کر کے دکھاتے ہیں اور کئی دفعہ آ کے مجھے بھی قصہ سنایا کرتے تھے کہ اس نے یوں کیا ہم نے اس طرح پر داؤ مارا اس نے یہ داؤ مارا اور ہماری فتح ہوئی مگر پوچھو کہ اس فتح کے نتیجے میں کتنے لوگ احمدی ہوئے تو احمدی کوئی نہیں۔فتح ہو گئی مگر احمدی کوئی نہیں ہوا اور اس کے مقابل پر سچے لوگ بے چارے تھوڑی بات کرنے والے کبھی شرمندگی بھی بظاہر اٹھا لیتے ہیں لیکن احمدی بڑے ہوتے تھے۔اب یہ جو دور ہے ہمارا یہ کثرت سے تبلیغ کا دور ہے اور ملک ملک میں انقلاب بر پا ہورہا ہے۔ایسے ملک جہاں آپ کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ لوگ ایک دم جاگ اُٹھیں گے اور عظیم تبلیغی انقلاب برپا ہو جائے گا وہاں بھی یہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔جلسہ سالانہ میں انشاء اللہ تعالیٰ اب چند دن رہ گئے ہیں۔جو دوسرے دن کی تقریر ہے اس میں چند مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔مگر اس وقت میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پہلے سے زیادہ ضرورت ہے حق سے چمٹنے کی اور حق سے چمٹا جانہیں جاسکتا۔جب تک کہ آپ کی سوسائٹی کا مزاج سچا نہ ہو جائے۔کسی پہلو سے جھوٹ سے کام نہیں لینا۔ہر موقع پر عہد کریں کہ بیچ سے چھٹے رہیں گے اور اس راہ میں قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور اصل حق پہچانا ہی اس وقت جاتا ہے جب قربانی در پیش ہو اور اس وقت بھی خدا کا ایک خاص نشان بسا اوقات ظاہر ہوتا ہے۔ایک شخص حق پر قائم رہنے کی خاطر قربانی دیتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو ایک بڑی آفت سے غیر معمولی طور پر بچا لیتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کی ایک مثال حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ اپنے خطبے میں دی تھی یعنی سید حامد شاہ صاحب کے ایک بیٹے کی۔حضرت سید حامد شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت قریبی صحابہ