خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 476

خطبات طاہر جلد 14 476 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء بیٹے کا باپ کے سامنے سرتسلیم خم کر دینا کہ ٹھیک ہے میں پھانسی چڑھ جاؤں گا لیکن واقعہ یہ ہوا ہے۔اس پس ڈپٹی کمشنر کو صرف ایک ہی اب راستہ ہاتھ آیا کہ اس پوچھنا ہی نہ پڑے۔اس نے جو مقدمہ درج کروانے والے تھے ان پر خود جرح شروع کی اور جرح کر کے یہ منہ سے نکلوایا لیا کہ دراصل پہل فلاں کی تھی یہ ایک دفاعی کوشش تھی اور میر حامد شاہ صاحب کے بیٹے سے پوچھا ہی نہیں تا کہ اس کے لئے مشکل نہ پڑ جائے کہ تم نے مارا تھا کہ نہیں مارا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کی نجات کے سامان پیدا کر دیئے۔اب یہ بیچ کی برکت تھی لیکن سچ کے نتیجے میں یہ بھی ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ادھر سچ بولا ادھر برکت مل گئی۔لوگ جھوٹ اس لئے بولتے ہیں کہ ادھر جھوٹ بولا اور ادھر نجات کے سامان نظر آتے ہیں۔اگر بیچ سے بھی ایسا ہی ہو تو لوگ پھر سچ ہی بولا کریں جھوٹ کی کیا ضرورت ہے۔تو یہ کہیں کہیں اللہ تعالیٰ کی تائید کے اظہار کے لئے اور یہ بات یقین دلانے کے لئے کہ اللہ جب چاہے تو سچ کے باوجود نجات کی طاقت رکھتا ہے اس لئے نمونہ یہ واقعات ہوتے ہیں۔مگر روزمرہ تو لوگ جھوٹ سے بظاہر پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔اب ایک اور مثال حضرت مصلح موعود ہی بیان فرمایا کرتے تھے۔اس میں ایک احمدی تھا جس کو سزا ضرور ملتی تھی سچ کی مگر کبھی باز نہیں آیا۔جھنگ کے تھے جن کا بیٹا بشیر آج کل ہمارے سوئٹزر لینڈ میں غالباً قائد ہیں یا کیا ہیں۔بہت مخلص خاندان ہے۔ان کی اولا د ماشاء اللہ ساری بڑے اخلاص کے ساتھ سلسلے کے ساتھ وابستہ ہیں۔( میرے ذہن سے اس وقت نام نکل گیا ہے۔مگر بہر حال ان کی کیفیت یہ تھی، یہاں شاید میں نے کہیں نوٹ کیا ہوا ہے میں نام بتا تا ہوں آپ کو ابھی مغلا، میاں مغلا تھے وہ۔وہ جھنگ کے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو رسہ گیر تھے اور رسہ گیران کو کہتے تھے۔جو خود بھی چور ہوں چور رکھے بھی ہوں اور دوسرے لوگوں کے مویشی وغیرہ نکال کے لے آئیں اور سب سے بڑی شان اس رسہ گیر کی ہوتی تھی جس کا مویشی واپس نہ کرنا پڑے اور اگر مویشی واپس کرنا پڑے تو اس سے ناک کٹ جاتی تھی اور اگر پتا چل جائے کہ یہ مویشی اس جگہ ہے اور اقرار ہو جائے تو پھر واپس بھی کرنا پڑتا تھا۔تو میاں مغلا احمدی ہو گئے۔احمدی ہوکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں نے تو جھوٹ نہیں بولنا اور چونکہ مخالفت بھی ہوئی علاقے میں مشہور ہو گیا کہ میاں مغلا احمدی بھی ہو گیا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے آئندہ سچ بولنا ہے۔تو جب بھی کسی کا کوئی جانور چوری ہو،