خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد 14 460 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء تم کیا سمجھتے ہو ایک کمزور شاخ مجھے بنا رکھا ہے تم نے۔شاخ میں کمزور ہوں مجھ میں دفاع کی طاقت نہیں ہے ٹھیک ہے۔لیکن از باغباں بترس کہ من شاخ مشمرم باغباں سے ڈرو کہ میں پھلدار شاخ ہوں اور پھلدار شاخ کی حفاظت کرنا باغبان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔پس جہاں آپ پھل دارشاخ بنیں گے وہاں اللہ لازماً آپ کی تائید کے لئے کھڑا ہو گا وہاں لا زما دشمن کی ہر کوشش آپ کے مقابل پر نا کام بنادے گا مگر حق سے تعلق قائم ہوگا تو یہ باتیں ہوں گی۔اس سلسلے میں قرآن کریم نے جہاں جہاں مختلف پہلو بیان فرمائے ہیں بعض دفعہ آیات کے حوالے سے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پہلی بات تو میں نے بیان کر دی کہ ٹکرا تا ضرور ہے اللہ تعالیٰ اور اس سے ٹکرا دیتا ہے جو بظاہر طاقتور ہوتے ہوئے بھی طاقتور نہیں ہوتے اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ کا ثبوت یہ پیش کرتا ہے کہ کمزور طاقتور کو کھاتا چلا جاتا ہے۔وہ اس پر غالب آتا چلا جاتا ہے دوسری جگہ فرمایا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے۔فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَى الْقَوْا مَا انْتُمْ مُلْقُونَ ) فَلَمَّا الْقَوْا قَالَ مُوسى مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَيُبْطِلُهُ اِنَّ اللهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (يونس 81 83) کہ جب وہ موسیٰ کے سامنے آئے تو موسیٰ نے کہا۔جو کچھ تم نے ڈالنا ہے ڈال دو ، جو کچھ تمہارے پاس ہے نکال پھینکو۔فَلَمَّا الْقَوْا قَالَ مُوسى مَا جِنتُم بِهِ السِّحْرُ جب انہوں نے نکال پھینکا تو موسیٰ نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور یہاں جادو کا معنی جھوٹ ، فریب، فساد ہے ایسی چیز جو نظر کو دھوکہ دینے والی ہو لیکن حقیقت میں اس بات کی ماہیت اور ہے۔وَيُحِقُ اللهُ الْحَقَّ بِكَلِمَتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ اور مجرم لوگ خواہ نا پسند کریں اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو مشق کر دیا کرتا ہے اور ثابت کر کے دکھا دیتا ہے۔اب وہاں دیکھیں کیا واقعہ ہوا ہے جو سحر تھا اس کی حقیقت یہ تھی کہ جو رسیاں جادوگروں کی طرف پھینکی گئیں وہ سانپ نہیں بنی تھیں۔وہ سانپ دکھائی دینے لگیں تھیں اور موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اس عصا کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے غالب قانون نے جو انسانی نفس پر غالب ہے اس خوف کو دور