خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 461
خطبات طاہر جلد 14 461 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء کر دیا اچانک اور اس جادو کا اثر جاتا رہا۔انہوں نے دیکھا تو رسیاں ہی رسیاں تھیں سانپ تھا ہی کوئی نہیں تو حق سے اگر تعلق پیدا ہوتو ایک حوصلہ اور جرات پیدا ہوتی ہے اور دشمن کی بھبکیوں کو آپ کھوکھلا اور بے معنی اور بے حقیقت دیکھتے ہیں۔اس لئے موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کو بار بار کہنا پڑتا ہے لَا تَخَفْ (ھود: 71) ڈرنا نہیں۔باتیں ایسی تھیں جو ڈرانے والی تھیں۔اپنے ہاتھ کا سوٹا بھی عصابن کے ابھرتا ہے۔دوسرے دشمن جو رسیاں پھینکتا ہے وہ سانپ دکھائی دینے لگتے ہیں تو بے چارے ڈرتے کیوں نہ۔ان کا ڈرنا ان کی سچائی سے تعلق رکھتا ہے۔صاف دل، پاک انبیاء ہوتے ہیں وہ دشمن کے فریب کو بطور فریب نہیں سمجھتے شروع میں۔جو دیکھا اپنی سچائی کی وجہ سے کہتے ہیں ایسا ہی ہوا ہوگا۔جو سانپ دیکھا وہ سانپ دکھائی دیا، یہ دل کی صداقت ہے اصل میں۔اللہ جانتا تھا اس حقیقت کو۔اس نے کہا کہ ڈرو نہیں۔دیکھو تو سہی اپنا عصا تو پھینکو پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔جب عصا پھینکا گیا تو رسیاں رسیاں دکھائی دینے لگیں۔تو اگر دشمن سے جب ٹکر ہوتی ہے تو اس کی بھبکیوں سے آپ مرعوب ہو جاتے ہیں اور وہ کہتا ہے میں یہ کر دوں گا اور میں وہ کر دوں گا اور آپ سمجھتے ہیں او ہو یہ تو بڑی غلطی ہوگئی۔پیچھے ہٹنے لگتے ہیں اور بزدلی دکھا جاتے ہیں۔تو پھر آپ کا میاب مبلغ نہیں بن سکتے۔کامیاب مبلغ بننے کیلئے حکمت تو ہے لیکن بزدلی نہیں۔جہاں تک حکمت کا تعلق ہے ہر نبی کو حکمت عطا ہوتی ہے۔اس لئے حکمت سے عاری ہو کر کوئی تبلیغ نہیں ہو سکتی کیونکہ تبلیغ کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ (النحل: 126 ) کی شرط لگاتا ہے حکمت سے کرو لیکن خوف کی کہیں کوئی شرط نہیں کہ ڈرتے ڈرتے کرنا ، خوف کو دور فرماتا ہے کہتا ہے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔لَا تَحْزَنُ اِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبہ: 40) دیکھو خوف کس زور کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کے سر پر ابھرا تھا آپ نیچے غار میں تھے۔اوپر خوف آیا اور اس طاقت کے ساتھ آیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کمزور کا ساتھ حضرت محمد ﷺ کوکسی پہلو بھی بچا نہیں سکتا تھا اور بچانا انہوں نے کیا تھا۔محمد رسول اللہ ﷺ کہ رہے ہیں لَا تَحْزَنْ تو غم نہ کھا، تو ڈر نہیں فکر نہ کر کہ اِنَّ اللهَ مَعَنَا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔یہ ہے حق کا ساتھ۔کوئی خوف بھی انسان پر غالب نہیں آسکتا اگر حق حقیقت میں ساتھ ہولیکن حکمت سے کام لیا ہے شور نہیں مچایا یہ نہیں کہا کہ حق میرے ساتھ ہے آجاؤ جو کرنا ہے کر لو میرا، جو لوگ یہ باتیں