خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد 14 459 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا باطل کے مقدر میں تو بھا گنا ہی بھا گنا ہے۔اور یہ گواہی اس جد و جہد کا آغاز کرتی ہے۔جس کے متعلق قرآن کریم ہمیں متنبہ کرتا ہے پہلے دن سے ہی تمہارے غلبے کے آثار دیکھ لیں گے اور پہچان لیں گے۔جب محمد رسول اللہ ﷺ ایک ہوں گے اس وقت بھی ان کو غالب سمجھا جائے گا۔وہ جانتے ہوں گے کہ یہ ایک ہے جو تمام دنیا پر بھاری اترے گا اس لئے اس ایک کو مٹانے کے درپے ہو جائیں گے اور ان کی آنکھوں کے سامنے وہ ایک ایک بڑھتا چلا جائے گا۔پس ایک ہی بات دشمن کی سچی نکلی اور ہمیشہ سچی نکلتی ہے کہ حق دوسروں کے پاس ہے حق محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے غلاموں کے پاس ہے۔حق انبیاء کے پاس ہے اور وہ حق سے عاری ہیں۔یہ جو دل کی آواز ہے دل کی پہچان ہے یہ ہمیشہ کچی رہی ہے اور ہمیشہ سچی رہے گی۔مگر اس کے ساتھ ایک اور مضمون وابستہ ہے کہ حق تب تک رہو گے جب حق سے تعلق ہوگا۔جہاں حق سے تعلق ٹوٹا وہاں حق کے متعلق خدا کی یہ گواہی تمہارے حق میں صادق آنا بند کر دے گی کہ حق آئے گا اور باطل بھاگ جائے گا۔پس جہاں حق سے تعلق میں کمزوری ہے وہاں غلبے کے مضمون میں بھی اسی حد تک کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔اگر معاشرے ایسے ہوں کہ لوگ دنیا دار ہو چکے ہوں اگر مادہ پرستی غالب آگئی ہو تو اچانک زندگی کے فقدان کے آثار ظاہر نہیں ہوا کرتے لوگ سانس لیتے ہیں اور لیتے چلے جاتے ہیں ، ظاہری تقاضے زندگی کے بھی پورے کرتے ہیں۔دیکھنے میں اچھے بھلے چلتے ہیں، زندہ انسان دکھائی دیتے ہیں مگر بنیادی طور پر ان کا حق سے تعلق اس حد تک کمزور ضرور پڑچکا ہوتا ہے کہ ان کے حق میں خدا کی یہ گواہی پوری نہیں ہوتی کہ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ - پس دعوت الی اللہ کا راز اس میں ہے کہ تم اپنا تعلق حق سے جوڑ لو اور ایسا گہرا پیوند کرو کہ تم پر حملہ حق پر حملہ ہو۔کوئی تمہیں ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے تو گویا وہ خدا کوٹیڑھی آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔تمہارے مقابلے کے لئے اُٹھے تو خدا سے مقابلہ کرنے کے لئے اُٹھا ہو۔یہی اعلان ہے جو بڑی تحدی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار فرمایا۔اے آں کہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغباں بنترس که من شاخ مشمرم ( در نشین فارسی: 106 )