خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد 14 455 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء کی کامیابی کا مضمون ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی جگہ تمہاری مسجدیں نہیں برباد ہوں گی، کسی جگہ تمہیں جانی نقصان نہیں پہنچے گا۔کسی جگہ سے تمہیں ہجرت نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ یہ سارے واقعات انبیاء کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اگر باطل کے بھاگنے کا یہ مطلب ہو تو پھر نعوذ بالله من ذالک سارے انبیاء کو بھاگا ہوا شمار کرنا پڑے گا۔اگر انبیا ء کی ہجرت زَهَقَ الْبَاطِلُ کے معنوں میں لی جائے نعوذ بالله من ذالک تو پھر سارے انبیاء باطل بنتے ہیں۔مگر قرآن کریم جب حق اور باطل کے مقابلے کی تفصیل بیان فرماتا ہے تو ایسے منطقی طور پر درجہ بدرجہ اس مضمون کو آگے بڑھاتا ہے کہ اس کے ہر پہلو پر، ہر قدم پر دیکھنے والے کوحق کی فتح اور باطل کا زیاں دکھائی دے گا۔اس کا بھاگنا ہر میدان سے ثابت ہوتا چلا جاتا ہے۔وہ جو مقابلہ ہے وہ کیوں ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی جو آیت میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باطل جہاد شروع کر دیتا ہے۔کسی طریقے سے حق کو مٹا ڈالے اور کچھ اس کا باقی نہ چھوڑے۔یہ جہاد کیوں ہوتا ہے؟ یہ دراصل شکست کا اعتراف ہے باطل کے جہاد کا آغاز ہی اعتراف شکست سے ہے کیونکہ اگر باطل کو یہ خوف ہو کہ بدیاں نہ پھیل جائیں گندگی نہ ہو جائے سوسائٹی گندی نہ ہو جائے۔جھوٹ ، فسق و فجور معاشرے پر قبضہ نہ کر لے تو وہ تو پہلے سے ہی ہے۔وہ تھا تو خدا نے نبی بھیجے اور اس کے خلاف معاشرے نے کبھی کوئی ردعمل نہیں دکھایا۔اس کو قبول کئے بیٹھا ہے۔تو صاف پتا چلا کہ بدیوں سے اور باطل سے اس معاشرے کی جس میں خدا کی طرف سے اس کے پیغمبر آتے ہیں کوئی لڑائی نہیں ہوتی ، آرام سے بیٹھے رہتے ہیں ،لڑائی اس سے ہوتی ہے جو آپ کی اقدار پر حملہ کرتا ہے ان اقدار کو مٹاتا ہے اور خدا کی طرف سے آنے والا بدیوں پر حملہ کرتا ہے اور نیکیوں کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے اچانک باطل اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے مقابل پر جدوجہد شروع کر دیتا ہے۔یہ اعتراف ہے کہ ہم بدیوں کے نمائندہ ہیں، ہم بدیوں کے علم دار ہیں اور نیکی کو برداشت نہیں کر سکتے اور یہ بھی اعتراف ہے کہ یہ نیکی غالب آنے والی نیکی ہے ورنہ ان میں ہر قسم کے پاگل، ہر قسم کی بڑھیں مارنے والے تحریکیں شروع کرتے ہیں ان کی مخالفت بردار نہیں ہوتی۔اب اس مضمون کو حضرت عیسی کے حوالے سے سمجھیں تو کتنا کھل کر سامنے آجاتا ہے۔