خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 456
خطبات طاہر جلد 14 456 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء حضرت عیسی اپنے وقت میں حق کے نمائندہ تھے۔جاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ کا مضمون آپ پر بھی صادق آتا تھا اور آنا چاہئے تھا اگر نہیں آیا تو نعوذ بالله من ذالک خدا تعالیٰ کا یہ دائمی اعلان غلط نکلتا ہے یہ ناممکن ہے کہ خدا کا کلام غلط نکلے، پس کیسے ہوا وہ مقابلہ، حق کیسے غالب آیا ؟ سب سے پہلے حق کے غالب آنے کی نشانی حضرت عیسی علیہ السلام کی اس انتہائی جاہلانہ اور ظالمانہ مخالفت میں ملتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں یہ مضمون خوب کھل کر سامنے آجاتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی مخالفت ہوئی ہے اس سے پہلے یہود میں ہرقسم کی بدیاں پھیل چکی تھیں ہر قسم کا فسق و فجور جاری تھا اور ان کو کوئی ہوش نہیں تھی ، کوئی پرواہ نہیں تھی۔حضرت عیسی کے مقابلہ کے لئے جو وہ ایک دم اٹھے ہیں اس کی وجہ سمجھ نہیں آتی کیونکہ عیسی علیہ السلام کا پیغام یہ تھا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دیا کرو۔کوئی اگر تم سے بہ مانگے تو قمیص بھی اتار کر دے دو۔عجیب سا پیغام تھا اور اس پیغام میں کوئی بھی غصہ دلانے والی بات تھی ہی نہیں۔اگر یہ پیغام عام ہو جاتا تو یہودیوں کو کیا تکلیف تھی۔قمیص مانگتے جے بھی ساتھ مل جاتے ، جسے مانگتے تو قمیص بھی ساتھ مل جاتیں۔ایک عیسائی بے چارے کو ایک تھپڑ مارتے کہتالو دوسرا بھی گال حاضر ہے ،تھپڑ مارلو۔اس کے باوجود وہ مشتعل ہو گئے۔اس کے باوجود وہ ایک ہو گئے باوجود اس کے کہ ان کے دل پھٹے ہوئے تھے ، صدیوں سے ایک دوسرے سے لڑرہے تھے لیکن حضرت مسیح کی مخالفت میں ایک ہوگئے کیونکہ ان کے دل گواہ بن گئے تھے کہ یہ پیغام غالب آنے والا پیغام ہے۔اگر حق نہ ہوتا اور ان کے دلوں کو یقین نہ ہوتا کہ یہ حق ہے تو کبھی اس قسم کی جاہلانہ مخالفت نہ کرتے اور ہر نبی کے حق ہونے کے ثبوت میں اسی قسم کی مخالفت ہمیشہ اس کے حق میں ایک روشن نشان بن کر ابھرا کرتی ہے۔تمام انبیاء کی یہ مشترک کہانی کہہ لیں یا ایک ایسی تقدیر ہے ان کی جو سب انبیاء کے حق میں خدا کی طرف سے برابر جاری ہوئی ہے کہ ان کے پیغام میں حقیقت میں کوئی غصہ دلانے والی بات ہو نہیں سکتی، نہ تھی اور آپ میں لڑتے ہوئے ان کی مخالفت میں ایک دم اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہاں ہم لڑا کرتے تھے ، جانتے ہیں ، ہم ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے وہ سارے ایک دوسرے کو کافر کہا کرتے کرتے تھے جو 72 فرقے یہود کے تھے اور ہم ایک دوسرے کی جان کے بھی دشمن تھے مگر اب تو دیکھو ہم سب اکٹھے ہو گئے ہیں اور تمہیں مٹانے کے درپے