خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 449

خطبات طاہر جلد 14 449 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء نکلا ہے وہ اس رات کی محنت کے بعد نکلا ہے۔پس جب نکلاتو پھر وہ مضمون دنیا نے یوں دیکھا کہ جیسے اچانک سورج نکلا اور روشنی ہو گئی اور اس سے پہلے جو منتیں تھیں اس کی طرف توجہ ہی نہیں گئی۔جب اسلام غالب آ گیا تو لوگ یہی سمجھتے رہے کہ اب کیا ہے بس اسلام روشن ہو گیا۔غالب آ گیا۔آسانی سے سب باتیں حل ہو گئیں لیکن جتنی بڑی جدو جہد تھی جس سے گزرنے کے بعد پھر وہ روشنی کا سورج طلوع ہوا ہے۔اس کا ذکر قرآن کریم فرماتا ہے اور مختلف صورتوں میں حق کا ذکر کر کے بتاتا ہے کہ حق آنا اور باطل کا بھا گنا ایک ایسا مضمون نہیں کہ ادھر حق نکلا اور ادھر باطل بھاگ گیا اس کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ (الكيف:57) ہم رسولوں کو سوائے اس کے کسی غرض سے نہیں بھیجتے کہ انہیں مبشر کے طور پر بھیجیں اور منذر کے طور پر بھیجیں۔خوشخبریاں بھی دے رہے ہوتے ہیں اور ڈرا بھی رہے ہوتے ہیں۔خوشخبریاں دن کی دیتے ہیں اور ڈراتے رات سے ہیں لیکن جب وہ یہ کام کرتے ہیں وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْ حِضُّوا بِهِ الْحَقَّ تو یہ نہیں ہوتا کہ اچانک حق کی روشنی سے باطل بھاگ جائے وہ جانے سے پہلے بڑی سخت جدو جہد کرتا ہے پورے زور اور طاقت سے مقابلہ کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُ و اوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ مجادلہ کرتے ہیں اور مجادلے کا آغاز ان کی طرف سے ہوتا ہے وہ کسی صورت اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح اس روشنی کو بھگا دیں اور رات کو دائی کر دیں۔چنانچہ فرماتا ہے لیذ حِضُّوا بِهِ الْحَقَّ تا کہ وہ حق کو مٹاڈالیں بالکل بر عکس مضمون ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے لیکن جب حق آتا ہے تو باطل کے مٹنے سے پہلے کچھ ہوتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ باطل اپنا پور از ورلگا تا ہے کہ جس طرح بھی بس چلے حق کو مٹا ڈالے وَاتَّخَذُوا أَيْتِي وَمَا اُنْذِرُوا هُزُوًا اور ہمارے نشانات کو اور جن باتوں سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ان کا وہ مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ان کی تحقیر کرتے ہیں تخفیف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں کہ حق مٹ جائے اور باطل باقی رہ جائے۔تو اب دعوت الی اللہ میں یہ تصور کہ ادھر پیغام دیا ادھر لوگ مان گئے قرآن میں تو اس کا کوئی