خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد 14 448 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء ایک ہی ہے احمدیت حقیقی اسلام ہے اور اسلام حقیقی احمدیت ہے۔اب میں حق کے حوالے سے اس مضمون کو کچھ اور آگے بڑھاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تو کہہ دے کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کا کام ہی بھا گنا ہے۔اس آیت کریمہ سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حق آجائے تو از خود ہی باطل رفع ہو جایا کرتا ہے اور جو مثال سامنے ابھرتی ہے وہ سورج کی مثال آتی ہے۔ابھرتے ہوئے سورج کی تصویر دکھائی دیتی ہے کس طرح رات کے دھند لکے سورج کے نکلتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔جہاں جہاں سورج کی کرنیں پہنچتی ہیں اندھیروں کو وہ نور میں تبدیل کر دیتا ہے۔کتنا آسان مضمون ہے اگر یہ ویسا ہی آسان ہوتا اور یہی قرآن کریم کی مراد ہوتی تو ہر نبی کے آنے کے بعد کسی جد و جہد کی ضرورت نہیں تھی۔نبی حق لاتا اور خود حق ذات سے تعلق جوڑ کر حق بن کر دکھا دیتا ہے اور اچانک تمام ماحول روشن ہو جاتا۔بغیر کسی جد و جہد کے حق کو غلبہ عطا ہو جاتا۔یہ اس آیت کا مفہوم نہیں ہے۔بعض صورتوں میں بعض پہلوؤں سے وہ مفہوم بھی ہے لیکن کہاں وہ مفہوم ہے اور کہاں مختلف مفہوم ہیں۔ان پر میں اب گفتگو کروں گا اور سب سے پہلے غیر کے مقابل پر باطل کے مقابل پر حق کیسے اس کو بھگاتا ہے قرآن کریم کے حوالے سے اس پر میں مزید روشنی ڈالتا ہوں کیونکہ دعوت الی اللہ تو دراصل حق کی طرف بلانا ہے اور کیا کیا مشکلات اس راہ میں پیش ہیں کیا اچانک سورج نکل آئے گا روشنی ہو جائے گی یا اس کے لئے محنت کرنا پڑے گی۔اول بات یہ ہے کہ وہ راتیں جو روحانی طور پر راتیں کہلاتی ہیں۔جن میں عصیان اور خدا تعالیٰ سے دوری کے نتیجے میں اندھیرے پھیل جاتے ہیں۔ان راتوں کو صبح کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ان راتوں کو صبح میں تبدیل کرنے کے لئے راتوں کو اپنے خدا کے تعلق سے نور سے روشن کرنا پڑتا ہے۔یہ وہ نور نہیں ہے جو از خود ہی اٹھ کر باہر آجائے چنانچہ آنحضرت ﷺ کا ذکر لیلۃ القدر کے حوالے سے یہی معنی رکھتا ہے۔وہ اندھیری رات جس نے تمام عالم کو یکساں اندھیروں میں جھونک رکھا تھا کہیں کوئی روشنی کا نشان باقی نہیں رہا تھا وہ کیسے تبدیل ہوئی ، ایک فانی فی اللہ اپنی راتوں کو جگا گیا اور یہ اس کی راتوں کو جگانے کا سلسلہ تھا جو خدا کے حضور گریہ وزاری کی اور حیرت انگیز طور پر راتوں کو دن بنانے کے لئے وقف کر دیا اور وہ راتوں کا وقف تھا جس نے دن پیدا کیا ہے اور جو سورج