خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 430
خطبات طاہر جلد 14 430 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء وہاں جھوٹ لگتا ہی نہیں، چسپاں ہی نہیں ہوسکتا۔پھر جھوٹ کی ایک وجہ مواخذہ کا خوف ہے اور اکثر ہمارے معاشروں میں مشرقی ہو یا مغربی پکڑ کے ڈر سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ایک بچے سے غلطی ہو یا ایک مجرم نے چوری کی ہو یا قتل کیا ہو کوئی بھی صورت ہو جہاں مواخذے کا خطرہ ہو وہاں جھوٹ بولا جائے گا۔اگر مؤاخذے کا خطرہ نہیں ہوگا تو جھوٹ نہیں بولا جائے گا۔اور اس کا حمد والے مضمون سے گہرا تعلق ہے اگر آپ ایک بات ایسی پوچھیں جس میں کہ خوشبو آتی ہے اگر کہو کہ کس نے لگایا ہے عطر، کس نے خوشبو والی بات یعنی کس کی وجہ سے خوشبو آئی ہے تو لوگ جھوٹ بول کے بھی کہہ دیں گے کہ ہماری وجہ سے آئی ہے لیکن اگر کہیں بد بو آئی ہے تو کوئی جھوٹ نہیں بولے گا کیونکہ ڈرتا ہے اور وہ بھی انکار کر دے گا یعنی جھوٹ بولے گا جس سے بدبو آئی ہے۔تو یہ حمد اور برائی کا گہرا تعلق جھوٹ سے ہے۔بعض صورتوں میں حمد کی خواہش جھوٹ پیدا کرتی ہے، بعض صورتوں میں برائی سے بچنے کا خیال جھوٹ پیدا کرتا ہے اور اس کا اگلا قدم مواخذہ ہے۔جہاں سزاملنی ہو وہاں انسان جھوٹ نہیں بول سکتا یعنی ان معنوں میں کہ اس نے جرم نہ کیا ہو اور جھوٹ بول رہا ہو لیکن جھوٹ بولے گا تو مجرم بولے گا اور مؤاخذے سے ڈر کر وہ جھوٹ بولے گا کہ نہیں میں نے کیا ہی نہیں تھا کیونکہ اس کو پتا ہے کہ اس کے نتیجے میں اس کے سر پر ایک سزا کی تلوارلٹکی ہوئی ہے۔یہ جو مضمون ہے یہ انبیاء کی صداقت سے بڑا گہراتعلق رکھتا ہے۔انبیاء جب ایک دعویٰ کرتے ہیں تو اس دعوے کے نتیجے میں ان کو بہت بری سوسائٹی کی طرف سے سزا ملتی ہے ، عزت پر حملہ کیا جاتا ہے، جان مال پر حملہ کیا جاتا ہے۔وہ تمام اعلیٰ قدریں جو ان کو نصیب تھیں جن کا سوسائٹی اعتراف کرتی تھی ان قدروں سے انکار کر دیا جاتا ہے۔اب ایسا شخص جو جھوٹ بولتا ہے یا اس نے اپنی تعریف کی خاطر جھوٹ بولا ہے یا کچھ کمانے کی خاطر ، حرص کی خاطر جھوٹ بولا ہے یا مواخذے کے ڈر سے جھوٹ بولا ہے۔تو وہ کیسا انسان ہے جو پہلے تو اتنا معقول اور اتنا بلند مرتبہ انسان کہلاتا ہو کہ قوم میں اس پر امید سے نظریں پڑتی ہیں۔جیسا کہ حضرت صالح کو کہا گیا کہ كُنتَ فِيْنَا مَرْجُوا ( عود :63) تو ہمارے اندر مَرْجُوا تھا۔ہم تو تم سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔بہر حال مَرْجُوا کا لفظ حضرت صالح" کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور ہر نبی کے متعلق یہی ہے۔