خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 431

خطبات طاہر جلد 14 431 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی لوگ امید میں لگائے بیٹھے تھے جیسے حضرت صوفی احمد جان صاحب نے آپ کی ملاقات کے بعد یہ کہا کہ: ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے تو انسان تعریف کی خاطر جھوٹ بولتا ہے، اس ڈر سے جھوٹ بولتا ہے کہ سزا نہ مل جائے اور حرص سے جائداد حاصل کرنے کی خاطر جھوٹ بولتا ہے اگر ایسا دعویٰ کرے کہ جس میں عزت بھی جائے جائداد بھی جائے اور ناحق مارا جائے۔جرم نہ کیا ہو اور پھر بھی سزا مل رہی ہو تو ایسا شخص پاگل ہی ہوگا اور اگر عقل والا ایسا ہو اس سے پہلے کہ اگر اس کی عقل کا شہرہ ہو تو ایسے شخص کو جھوٹا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک معاند مولوی، پہلے کی بات ہے میرے سے گفتگو کرنے آیا، تو اس نے اپنی طرف سے یہ اکٹھے کئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ بد درجه دعاوی اور اس کو پتا نہیں تھا کہ بعینہ یہی اعتراض عیسائی حضرت محمد ﷺ پر بھی کرتے تھے۔کہ پہلے ایک چھوٹا سا جھوٹ بولا۔پھر دوسرا پھر تیسرا پھر چوتھا۔پہلے کہا میں موسیٰ سے بھی افضل نہیں ہوں صرف اہل مکہ کو ام القری کو ڈرانے آیا ہوں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں پہلے کہا کہ عشیرہ کو جو میرے قریب قرب وجوار میں میرے رشتے دار اور خونی اقرباء ہیں ان کو ڈرانے کے لئے آیا ہوں اور یہ وحی بنائی کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اپنے اقرباء کوڈرا۔پھر اگر الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا (الانعام :93) کو ڈرا۔پھر دعوئی بڑھایا اور یہ کہہ دیا کہ قُلْ يَاتِهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا (الاعراف: 159) اہل کتاب کو پہلے مخاطب پھر آگے یہ دعوی کر دیا۔تو اپنی طرف سے انہوں نے یہ بنایا کہ جھوٹ کی مثال ہے اس طرح لوگ رفتہ رفتہ بڑے بڑے دعاوی کرتے رہتے ہیں۔تو مولوی صاحب کی عالمی طور پر تو مذہب کی تاری پر بالٹر پچر پر نظر نہیں تھی۔مگر کہیں سے یہ پڑھ لیا کہ مسیح موعود نے پہلے یہ دعوی کیا کہ میں مامور ہوں پھر مہدی، پھر مسیح، کرشن ہونے کا بھی کر دیا تو فہرست بنا کر آیا ہوا تھا کہ دیکھیں جی مرزا صاحب جھوٹے ،صاف پتا چل رہا ہے۔میں نے مولوی صاحب سے پوچھا، میں نے کہا مجھے یہ ایک بات بتائیں کہ اگر یہاں ربوہ