خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 429

خطبات طاہر جلد 14 429 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء ہیں ہمیشہ کے لئے حق چھپ نہیں سکتا۔تو بظاہر اللہ تعالیٰ کوحق نہیں فرمایا گیا مگر جو صفات کی داغ بیل رکھی گئی ہے اس میں حق داخل ہے۔حمد کے نقطہ نگاہ سے تو اللہ تعالیٰ کوکسی جھوٹ کی ضرورت ممکن ہی نہیں ہے یعنی عقلی طور پر اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔دوسری ایک وجہ ہے حرص ، دنیا میں بہت سے جھوٹ حرص کی خاطر بولے جاتے ہیں۔جتنے مقدمے بنتے ہیں یہ ہماری جائیداد ہے، اصل میں ہماری تھی یا فلاں نے ہم سے لے لی اور واپس نہیں کی یا جھوٹے مقدمے قرض کے بنا دیئے جاتے ہیں غرضیکہ دنیا میں جتنے جھگڑے قضائی چلتے ہیں یا عدالتی چلتے ہیں ان میں ایک بڑا حصہ ان مقدموں کا حرص کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جھوٹ سے ہے۔اب پاکستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں لیکن دوسری دنیا کی عدالتوں میں بھی چل رہا ہے صرف پاکستان تو خاص نہیں ، ہندوستان اس قسم کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے، بنگلہ دیش میں یہ قصہ جاری ہے، مغربی دنیا میں بھی یہ قصے چلتے ہیں نسبتاً کم مگر موجود کہ حرص کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے۔تو وہ وجود جس کا سب کچھ ہو، جو رَبِّ الْعَلَمینَ ہوجس کے اوپر دوسروں کی بنا ہو اور اسے دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ وہ اس کو کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی کیونکہ وہ حرص کا پہلو اس کا غائب ہوگیا کیونکہ رب العلمین ہے۔اسی طرح دیگر صفات پر غور کریں۔قرآن کریم نصیحت کرتے ہوئے یہ بیان فرماتا ہے وَلَا تَأْكُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقره:189) کہ دیکھو تم اپنے اموال آپس میں باطل کے ساتھ نہ کھایا کرو۔باطل کے کئی معنی ہیں لیکن بنیادی معنی جھوٹ ہی ہے۔جھوٹ بول کے ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ یا جن باتوں میں خدا نے منع فرمایا ہے ان باتوں کو اختیار کر کے مال نہ کھاؤ یعنی حرام مال نہ کھاؤ۔تو دونوں جگہ در اصل بنیادی معنی جھوٹ ہی کا ہے۔جھوٹ کی خاطر جھوٹی چیز ، غلیظ چیز حاصل کرنا یہ حرص سے تعلق رکھتا ہے اور حرص پیدا ہوتی ہے اس کو جو غریب ہو اور اگر غریب نہیں بھی ہے تو کامل مالک نہیں ہے۔زمین و آسمان ، کائنات سب اس کی نہیں ہے۔کچھ کمی ہے تو اس کو لینے کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے۔جو تمام جہانوں کا رب ہے، ان کا پیدا کرنے والا ، بن مانگے دینے والا ، اس کو اس پہلو سے جھوٹ کی ضرورت ہی کوئی نہیں،