خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 428

خطبات طاہر جلد 14 428 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء جھوٹ کی جو وجوہات ہیں ان میں سے ایک ہے جھوٹی تعریف حاصل کرنا۔جن کو تعریف کا شوق ہوا ور تعریف سے عاری ہوں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا أَتَوْا وَ يُحِبُّونَ ان يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا ( آل عمران: 189 ) کہ وہ لوگ جن کے ہاتھ پلے کچھ بھی نہیں ہوتا جو کچھ لاتے ہیں جھوٹ ہی لاتے ہیں اور خوش اس بات پر ہورہے ہوتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جارہی ہے ان باتوں میں جو انہوں نے کی نہیں۔تو بہت سی جھوٹ کی وجوہات حمد کی تمنا ہے۔پس اگر آپ یہ کہتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو وہاں ساتھ ہی یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ وہ ذات ہے جس کو حمد کی خاطر کسی جھوٹ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر سچی حمد جس کا تصور باندھا جاسکتا ہے، ہر قابل تعریف چیز جو اپنے درجہ کمال کو پہنچی ہے وہ اس ذات باری تعالیٰ میں موجود ہے تو جھوٹ کی جڑ ہی غائب ہوگئی۔حمد کی تمنا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی جھوٹ کا کوئی تصور بھی نہیں باندھا جا سکتا کیونکہ یہ متضاد مضمون ہے اور انسان چونکہ حمد کا مالک نہیں ہوتا اور کامل حمد نہیں رکھتا اس لئے وہ اپنے نقائص کو دور کرنے کی خاطر فرضی خوبیاں اپنی بیان کرتا ہے یا پسند کرتا ہے کہ لوگ فرضی خوبیاں بیان کریں۔یہ خوشامد میں، یہ اپنے نفس کی بڑائیاں، یہ تعلیاں، یہ ساری وہ چیزیں ہیں جنہوں نے معاشرے میں زہر گھول رکھا ہے اور اب اس پر غور کر کے دیکھیں اس کو تفصیل سے خاندانی جھگڑوں اور روزمرہ کی معاشرتی خرابیوں پر چسپاں کر کے دیکھیں تو آپ تو آپ کو پتا لگے گا کہ محض تعریف کی خاطر ایسی ایسی جھوٹ بکو اس کی جاتی ہے کہ اس کے نتیجے میں پھر فتنے پیدا ہوتے ہیں اور ایسا شخص خود اپنا وقار بھی کھو دیتا ہے۔بات کرتا ہے تو لوگ دوسری طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں بڑی عادت ہے اس کو شیخیاں بگھارنے کی ، تعلیاں کرتا ہے، اپنے بچوں میں عزت کھو دیتا ہے۔چنانچہ ایک جگہ مجھے کسی نے بتایا کہ ایسا ہی کوئی شخص تھا بے چارہ محروم کہ اس کی عادت تھی غلط باتیں ، کہیں مارنے کی تو ایک جگہ اس نے خود مجلس لگائی اور کہا کہ بس یوں پھر میں نے یوں کیا تو اس کا بیٹا اسی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا وہ ایک طرف منہ کر کے اشارے سے کہتا تھا کہ ماننانہ، سب گپ ہے۔تو اولاد میں عزت باقی نہیں رہتی۔تو جھوٹی عزت آدمی حاصل کر سکتا ہی نہیں۔وہم ہے اور چند دن کے چرچے ہو سکتے