خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 427
خطبات طاہر جلد 14 427 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء کہا جاتا ہے، سبحان کا بندہ لیکن حمد اپنی ذات میں ایک بہت ہی گہرا اور وسیع الاثر لفظ ہے اور جس طرح قرآن کریم نے سورہ فاتحہ میں استعمال فرمایا ہے اس میں سبحانیت کا مضمون بھی داخل ہو جاتا ہے۔پس وہ رحمن جو حد کے لحاظ سے پورا نہ اترے، کامل حمد کا حق دار نہ ہو اس کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی نقص رہ گیا ہے وہ سبحان نہیں ہے اور ایسے رحمن ہمیں دنیا میں عام ملتے ہیں۔حد سے زیادہ بڑھے ہوئے نرم دل جو اپنی نرمی میں توازن کھو بیٹھتے ہیں ، مائیں جو محبت میں اپنے بیٹوں کو بگاڑ دیتی ہیں ان کی عاقبت خراب کر دیتی ہیں تو کوئی بھی صفت خواہ کیسی اچھی کیوں نہ ہو جب تک اس کے ساتھ حمد اپنے کامل معنوں میں اطلاق نہ پائے اس وقت تک وہ اچھی صفت بھی کسی نہ کسی برائی میں مبتلا ہو سکتی ہے۔پس حمید کا لفظ تو خدا تعالیٰ کے ہر اسم کے ساتھ سورہ فاتحہ میں چسپاں کر دیا گیا ہے۔اس کے بغیر خدا کے کسی اسم کا تصور ہی کوئی نہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ایسی صفات جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو آپ کھوج لگائیں تو آپ کو ان کا گہرا تعلق ان صفات باری تعالیٰ سے نظر آنا شروع ہو جائے گا جو سورہ فاتحہ میں بیان ہیں اور اللہ تو فیق عطا فرمائے ، فراست کو بھی تیز کرے، آسمان سے عرفان اتارے تو کوئی بھی ، ایک بھی صفت خدا کی ایسی نہیں ہے جس کا ان صفات باری تعالیٰ سے قطعی یقینی جوڑ ثابت نہ کیا جا سکے جن کا سورہ فاتحہ میں ذکر ہے۔آج کی ایک مثال کے طور پر میں نے لفظ حق کو چنا ہے۔الحق خدا کا ایسا نام ہے جوا سے مجسم سچائی قرار دیتا ہے۔حق سچائی کو کہتے ہیں۔سچائی ایک صفت ہے جس کا وجود نہیں۔مگر الحق جب کہا جاتا ہے تو مراد ہے جو کامل سچا ہو، جس میں سچائی کے سوا کوئی دوسرا عصر نہ پایا جائے۔جو سچائی کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعریف ہو سکتی ہے وہ الحق لفظ میں داخل ہے۔تو سوال یہ کہ الحق کا بیان یہاں کہاں موجود ہے۔خدا کی سچائی کا ان چار صفات میں کہاں ذکر ہے۔اس سلسلے میں میں آپ کے سامنے کچھ باتیں کھولنا چاہتا ہوں۔یہ کوئی علمی بحث نہیں ہے بلکہ جماعت کے اندر گہری سچائی پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی صفت حق یا اسم حق پر غور ضروری ہے اور اس کے تجزیہ سے پھر انسان کو پتا چلتا ہے کہ میں کیوں جھوٹ بولتا ہوں، کہاں کہاں ٹھوکر کھاتا ہوں اور حق ذات سے تعلق قائم کئے بغیر میں کن کن نعمتوں سے محروم ہوں یا محروم رہوں گا۔یہ مضمون جب کھل جائے تو پھر اپنی ضرورت کو لوگ از خود اپنے سچائی کے معیار کو بلند تر کرنے کی کوشش کریں گے۔