خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد 14 426 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس دور میں ہوئے ہیں بغیر کسی جبر کے، بغیر کسی حرص کے مسلمان ہوئے تھے اور دوسو سال تک بعد میں انہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں، غاروں میں زندگیاں بسر کی ہیں لیکن دین نہیں بدلا۔تو یہ کہہ دینا کہ زمین سنگلاخ ہے یا پانی کڑوا ہے۔یہ درست بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر جگہ اب ہوائیں چل پڑی ہیں اور سپین کو بھی ان برکتوں سے حصہ لینا چاہئے۔ساری جماعت کو شامل ہونا ہو گا اور ہر مربی کو، اپنے آپ کو اس معامعلیمیں جھونک دینا ہوگا۔اس لئے صرف رپورٹیں کافی نہیں اب تو درخت گنے کا نہیں ، پھل گنے کا وقت ہے اور پھل بھی اتنے بڑھ رہے ہیں کہ گنے کا وقت بھی نہیں اس سے معاملہ آگے نکل چکا ہے۔تو کوئی ملک ایسا نہیں رہنا چاہئے۔جو اللہ تعالیٰ کی اس عالمی برکتوں سے کسی پہلو سے محروم رہ جائے تو میں امید رکھتا ہوں کہ سپین کی مجلس شوری میں خصوصیت سے اس پہلو سے بھی غور ہوگا اور سب احمدی اپنے آپ کو مثمر ثمرات حسنہ بنانے کی کوشش کریں گے یعنی اچھے، دائمی نیک پھلوں والے درخت بنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔میں نے بیان کیا تھا کہ تمام صفات باری تعالیٰ ان چار بنیادی صفات سے پھوٹتی ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔اس ضمن میں حمید صفت کا بھی کسی گزشتہ خطبے میں غنی کے ساتھ ذکر آیا تھا اور بظاہر حمید صفت ان چار صفات میں شامل نہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ لیکن یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ سورۃ فاتحہ کا آغا ز حمد سے ہوتا ہے اور حمد کی صفت اللہ کے ساتھ اور دوسرے تمام اسماء کے ساتھ برابر کا تعلق رکھ رہی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اس کے ساتھ ہی یہ مضمون اس طرح جاری ہوتا ہے گویا اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِن مُلِكِ يَوْمِ الدین اور عربی قاعدے کے مطابق اس تفصیل سے ترجمہ کرنا بالکل درست ہے۔حمد کا مضمون ان سب پر اطلاق پارہا ہے۔اس لئے حمید کہنے کی بجائے اسم مصدر استعمال فرمایا۔جس کا ان تمام صفات سے براہ راست تعلق جڑ گیا اور یہ ضروری بھی تھا کیونکہ کوئی بھی صفت حسنہ اگر حد سے عاری ہو کسی پہلو سے تو وہ سبحان نہیں رہتی ، پاک نہیں رہتی اور حمد کا مضمون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کوئی چیز ہر برائی سے پاک ہو۔پس اگر چہ سبحان بھی یہاں ہے جو خدا تعالیٰ کا نام ہے ،عبدالسبحان