خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 396

خطبات طاہر جلد 14 396 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء پر اس کو طمانیت قلب نصیب کرتا ہے۔ایک راضی رہنا جو منہ سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح بھی اللہ کی مرضی ہم راضی ہیں لیکن دل بے چین رہتے ہیں۔لوگ اپنے عزیزوں سے جو وفات پا جاتے ہیں جدائی کا صدمہ محسوس کرتے ہیں۔ہر وقت آگ لگی رہتی ہے لیکن منہ سے یہی کہتے ہیں کہ اچھا پھر جس طرح خدا کی رضا اسی میں ہم راضی اور بعض لوگ مہلک بیماریاں لگا بیٹھے ہیں۔غم اپنی ذات میں تو کوئی گناہ نہیں شرک نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ بھی رحمت اور شفقت کے نتیجے میں روتے تھے۔اپنے بچے کی جدائی پر بھی آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے مگر جب کسی نے پوچھا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ ! آپ نے فرمایا، یہ رحمت کی نشانی ہے اس میں اس بچے کے لئے کوئی ایسا احتیاج نہیں ہے کہ یہ ہاتھ سے گیا تو میں بے چین ہو گیا لیکن ایک رحمت ہے اور جس کا رحمت سے حصہ نہیں اس کے پاس کچھ بھی نہیں وہ محروم ہے۔پس رحمت کا مضمون اور غنا کا مضمون ایک تعلق رکھتا ہے اور اسی مضمون کو میں آگے جا کر قرآنی آیت کے حوالے سے کھولوں گا۔سر دست میں یہ بتانا چاہتاہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم فقیر ہو اللہ غنی ہے اور حمید ہے یعنی خدا کو تمہاری احتیاج بالکل نہیں ہے لیکن حمید ہے وہ قابل تعریف ہے۔اس کے دو معنی بنتے ہیں ایک یہ کہ اس کی صفات حمیدہ اس بات کا تقاضا کر رہی ہیں کہ تم سے پیار کرے، تم سے تعلق جوڑے، تمہاری نگہداشت کرے، اس لئے نہیں کہ خدا تمہارا محتاج ہے بلکہ اس کی صفات حمیده از خود اس کے اندر جھک کر اپنی کمزور مخلوقات سے تعلق رکھنے پر اس کو آمادہ کرتی ہیں۔دوسرا یہ کہ وہ اتنا غنی ہے کہ اگر تم تعریف روک لو اور ناشکری کا اظہار کرو تو ایک ذرہ بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔جو اپنی ذات میں حمید ہو اس کے اندر ایک ایسی عظمت کردار پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسروں کی نظر سے بھی مستغنی ہو جاتا ہے، ان کو پتا لگے نہ لگے وہ مستغنی ہے۔اب لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں نے پہلے بھی محاورہ آپ کے سامنے رکھا تھا، پنجابی کا ہے لیکن ہے اچھا دلچسپ محاورہ ہے کہ دستے پتر دامنہ کیہ چمناں جو بچہ سویا ہوا ہے اس کو پتا نہیں کیا کر رہا ہے لیکن مائیں تو چومتی ہیں اس لئے نہیں کہ ان کو اس بچے کی Appreciation کی احتیاج ہے۔اس لئے کہ وہ حمید ہے ان معنوں میں کہ ان کی صفات حمیدہ اس بچے سے بغیر کسی عوض کے پیار کرنے پر ان کو مجبور کرتی ہیں۔تو وہاں تھوڑی سی جھلکی ماں کی رب اور رحمان خدا سے ہمیں دکھائی دیتی ہے کیونکہ رحمی تعلق کے لحاظ سے انسانی رشتوں میں سب سے قریب تر رشتہ ماں کا بچے سے ہے اور وہاں اس کو یہ