خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد 14 395 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء جس طرح UK میں لازم ہے اور مجلس شوری کے دوران خاص طور پر اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ وہی سلسلے کے مخلصین آگے آئیں جو اگر اپنی سپردگی میں یعنی سلامتی میں کامل نہ بھی ہوں تو کم سے کم سلامتی کی طرف سفر اختیار کر چکے ہیں۔انچ انچ ، ذرہ ذرہ ، کچھ نہ کچھ اس طرف بڑھ رہے ہیں۔وہی جو اس لائق ہیں کہ خدا کی سلامتی کے نظام میں یعنی اسلام میں ان کو نمائندگی ملے ، ان کو خدمت کے مواقع ملیں اور انہی کی خدمتیں ہیں جو برکت کا موجب ہوں گی باقی خدمتوں کی ہمیں کوئی بھی پرواہ نہیں ہے لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ خدمتوں کی پرواہ نہیں تو یہ مراد نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پرواہ نہیں۔ج اس سلسلے میں میں قرآنی آیات کے حوالے سے کچھ مزید آخر پر جا کر یہ مضمون کھولوں گا۔اب میں قرآن کریم کی وہ آیات جہاں لفظ غنی کا استعمال ہوا ہے اور سلامتی کے تعلق میں ہمیں یہ لفظ کیا پیغام دیتا ہے وہ پڑھ کر آپ کو سناتا ہوں۔سورۃ فاطر آیت 16 میں ہے۔يا يُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ اے بنی نوع انسان یاد رکھو کہ تم فقیر ہو اللہ کے حضور وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ اور اللہ ہی ہے جو غنی بھی ہے اور حمید بھی ہے۔غنی اگر کوئی حقیقت میں ہو تو وہ ہر چیز کا مالک ہوتا ہے اور ہر چیز اس کی ہو جاتی ہے،اس کی ہو تو وہ غنی کہلا سکتا ہے اگر کوئی چیز اس کی نہ ہو تو اس کی طرف اس کی نظر ہوگی اور جس کی کسی ایسی چیز کی طرف نظر ہو جو اس کی نہیں ہے وہ غنی نہیں کہلا سکتا۔پس مومن پھر کیسے غنی بنے۔جب سب کچھ خدا کا ہے اور بندے کا یا تمام انسانوں کا بحیثیت مجموعی یعنی اجتماعی طور پر یا انفرادی طور پر کچھ بھی نہیں ہے تو خدا کی اس صفت کی پیروی کیسے کی جاسکتی ہے کیسے اس صفت سے تعلق جوڑا جا سکتا ہے؟ اس مضمون کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے یوں بیان فرما۔الغنی غنی الفنس کہ مومن کا جہاں تک تعلق ہے اس کی غنا نفس کی غنا سے پیدا ہوتی ہے یعنی احتیاج کے باوجود اگر وہ غیر اللہ سے اپنے آپ کو اس طرح بالا کر دے کہ اس کی کوئی اچھی چیز کی بھی حرص اس کے دل میں پیدا نہ اس کے مال اور دولت اس کے دل پر رعب نہ پیدا کر سکیں۔اس کی کوٹھیاں ،اس کی کاریں، اس کی رہائش کے انداز ، اس کے دبدبے، اس کے سیاسی تعلقات ، اس کی عقل، اس کا علم کوئی چیز بھی اس پر ایسا رعب نہ ڈال سکے کہ اسے احساس محرومی ہو کیونکہ وہ جب اللہ کا ہو چکا ہے تو یہ احساس کہ میں سلام کا نمائندہ ہوں یہ اسے ہر دوسری چیز سے مستغنی کر دیتا ہے اور ہر حال میں اپنے رب کے حضور راضی رہنے