خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 397
خطبات طاہر جلد 14 397 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء پرواہ نہیں ہوتی کہ بچے کو پتا بھی ہے کہ نہیں۔کئی مفلوج بچے میں نے ایسے دیکھے ہیں اس سفر کے دوران بھی مجھے دکھائے گئے ان کو کوئی ہوش نہیں تھی، کچھ پتا نہیں تھا ان کو سنبھالنا بہت تکلیف دہ کام تھا مگر ما ئیں تھیں جو فد تھیں اور جانتی ہیں کہ اگر یہ فوت ہو جائے تو ہمیں نجات مل جائے گی مگر زندگی کی دعائیں کرتی ہیں۔یہ حمید صفت کا ایک اظہار ہے لیکن معمولی سا۔اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے جو تعلق رکھتا ہے احتیاج کے نتیجے میں نہیں غنی ہونے کے باوجود لیکن انسان ہر تعلق میں اپنے آپ کو یہ نہیں دکھا سکتا کہ میں غنی ہوں پھر بھی تعلق رکھتا ہوں۔ماں اگر رکھتی ہے تو تھوڑی دیر کے لئے ، کچھ عرصے کے لئے مگر اس میں بھی درجہ کمال کو نہیں پہنچتی اور بسا اوقات جب تک اس کی ضرورتیں پوری کرنے والا بچہ ہو اس وقت تک تعلق رہتا ہے جس حد تک وہ کم ہو جائے اتنا ہی وہ تعلق کم ہوتا چلا جاتا ہے۔بعض مائیں کہتی ہیں سب بچے برابر لیکن جو خدمت کر رہا ہے اس سے زیادہ پیار ہوتا ہے جو اور صفات حسنہ اختیار کر کے ماں کا نام روشن کرنے والا ہے اس سے زیادہ پیار ہو جاتا ہے۔تو الغَنِيُّ الْحَمِيدُ کا یہ معنی انسانی لحاظ سے ایک عارضی معنی ہے۔مگر اللہ تعالی جہاں شکر گزار ہے وہاں بندے کی خوبیوں کے لئے ان پر رحمت سے جھک کر ان کو قبول فرماتا ہے مگر احتیاج کی خاطر نہیں۔اس لئے غنی حمید کا اکٹھا محاورہ خدا کی صفات کو انسانی صفات سے ممتاز کر دیتا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں ورنہ اگر ان الْغَنِيُّ الْحَمِیدُ کو جوڑ کر نہ پڑھیں تو یہ سوال اُٹھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی تو اپنے انبیاء کی بڑی قدرت کرتا ہے اپنے لئے قربانی کرنے والوں کی بڑی قدر کرتا ہے۔تو غنی حمید کا اکٹھا محاورہ ہمیں بتا رہا ہے وہ کرتا ہے غنی ہونے کے باوجود،ضرورت نہیں ہے اور اس پہلو سے اس کا تعلق رکھنا اسے اور بھی زیادہ حمید بنا کر دکھاتا ہے یعنی اپنے ایسے بندوں سے تعلق جوڑ لیتا ہے جن کا تعلق اس کی ذات میں اس کی شان میں ، اس کی کبریائی میں ایک ذرہ بھی اضافہ نہیں کر سکتا لیکن ان سے جھکتا ہے اور ان کی بڑی شان بیان کرتا ہے یہاں تک کہ نسلاً بعد نسل ان پر درود بھیجتا ہے اور یہ تعلق حضرت ابراہیم کے حوالے سے پھر دوبارہ یاد آ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابراہیم کے اوپر سلام بھیجا گیا ہے ایسا سلام جو آنے والی نسلیں بھی اس پر بھیجیں گی اور درود شریف میں جو ابراہیم کا نام سلام کے تعلق میں بیان ہوا ہے یہ خدا کے اس وعدے کے پورا کرنے کا ایک نظارہ ہے۔