خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد 14 33 33 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ صفات محض جہاد کے دوران سامنے نہیں آتیں یا اس وقت نہیں بنا کرتیں، پہلے روز مرہ اپنے گھر میں یہ تخلیق پاتی ہیں، گھر میں پرورش پاتی ہیں ،وہاں بڑھتی ہیں اور نمایاں ایک طرز اختیار کر لیتی ہیں ، پھر جب ایسا شخص میدان جہاد میں نکلتا ہے تو لازما وہی ہوتا ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔مگر کوئی کہے کہ گھر پہ تو میرا یہ سلوک ہوگا کہ دوستوں کو دشمن بناؤں گا۔محلے میں تو یہ سلوک ہوگا جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ ہوتے چلے جائیں لیکن جب میں خدا کی خاطر نکلوں گا تو پھر میں یہ توقع رکھوں گا کہ دشمن بھی جاں نثار دوست بن جائیں یہ جہالت کی باتیں ہیں محض فرضی قصے ہیں کوئی بھی حقیقت نہیں۔جہاد کے لئے قرآن کریم نے تیاری کا بھی حکم دیا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ اچانک جہاد شروع کر دو۔فرمایا جہاد کی تیاری رکھو۔اور ہر وقت تیاری رکھو آنحضرت ﷺ نے تو ایک موقع پر فرمایا کہ جو شخص جہاد کی خاطر گھوڑے پالتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے تو ایسے گھوڑے کی پیشانی کی سفیدی میں اس کے لئے برکتیں رکھ دی جاتی ہیں۔تو تیاری جو ہے وہ جہاد سے قبل ضروری ہے اور یہ وہ تیاری ہے جو آپ کو گھر پر کرنی ہوگی۔اگر نہیں کی تو پھر یہ خیال کر لینا ہے کہ جب آپ دشمنوں کو تبلیغ کریں گے تو وہ محبت کا سلوک کریں گے یا جاں نثار ہو جائیں گے یہ فرضی باتیں ہیں کچھ بھی اس میں حقیقت نہیں۔عملاً آپ کی بقاء کے لئے ضروری ہے کیونکہ دعوت الی اللہ سب سے کڑوا کام ہے اور سب سے خطر ناک اس لئے کہ خدا کے نام پر ، خدا کی وجہ سے، خدا کے دشمن آپ کے دشمن بن جاتے ہیں اور جو خدا کے دشمن ہوں ان کے اندر کوئی حیا، سلیقہ کچھ بھی باقی ہیں رہتا۔ان کی دشمنی کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ انہیں خود بھی خدا پر پورا یقین نہیں ہوتا۔وہ دنیا دار ہو چکے ہوتے ہیں۔خدا کی باتیں پسند ہی نہیں کرتے اور بعض دفعہ خدا کے نام پر خدا کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں سے آپ کو رحم کی تو کوئی توقع نہیں ہو سکتی۔ایسے لوگوں کے سامنے آنا اور ان سے ٹکر لینا بہت خطرناک بات ہے مگر اللہ نے اس کا ہمیں سلیقہ سکھا دیا اور وہ یہ سکھا دیا کہ اپنے اخلاق کو ترقی دو۔ایسے اعلیٰ اخلاق کے حامل بن جاؤ کہ جن کے نتیجے میں دشمن ضرور دوست بن جایا کرتے ہیں اور یہ ہوتا ہے۔روز مرہ کی زندگی میں ہم نے دیکھا ہے کہ اعلیٰ خلق والا بالآخر ضرور کامیاب ہوتا ہے اور اس کے محبت کرنے والے اور اس کے تعلق رکھنے والوں کا دائرہ دن بدن بڑھتا چلا جاتا ہے۔