خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 34

خطبات طاہر جلد 14 34 =4 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء تو تبلیغ کے لئے اعلیٰ خلق سے مزین ہونا انتہائی ضروری ہے اور قیامت کے دن جو وزن خلق کا کیا جائے گاوہ یہ مراد ہے۔تم میں جس حد تک محمد رسول اللہ کے اخلاق کی خوشبو پائی جائے گی اس کی ادا ئیں تمہارے اندر پائی جائیں گی اتنا ہی تمہارا پلڑا بھاری ہوگا پس روز مرہ اپنے ماحول میں اپنے گھروں میں ، اپنے تعلقات میں ، ہمسایوں سے تعلقات میں تمام بنی نوع انسان سے تعلقات میں اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں اور اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے بہت باریک نظر سے دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ اپنی بد خلقی انسان کو خود نظر نہیں آتی ، سب سے بڑی مصیبت یہ ہے لیکن اگر باشعور ہواور اللہ کو یاد کرنے والا ہو تو پھر اپنا نفس نہیں بھلا سکتا انسان، پھر خدا کی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے متقی کی تعریف ہی یہ فرمائی ہے التـــو افراست المومن فانه یری بنور الله ( ترندی کتاب تفسیر القرآن حدیث : 3052) متقی کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔پس جس کا خلق اسے خدا کے قریب کر دیتا ہے اور خدا کے خلق کو اپنا لیتا ہے اس کے اندر خدا کے نور سے دیکھنے کی صفت بھی پیدا ہوتی ہے اور اس نور سے پھر کوئی اندھیرا باقی نہیں رہتا جو اس کی موجودگی میں قائم رہے اپنے نفس کے اندھیرے بھی روشن ہو جاتے ہیں۔پس کسی نے اگر اپنے نفس کی بصیرت حاصل کرنی ہے تو لازم ہے کہ اللہ کے نور سے دیکھنے کی عادت ڈالے اور اللہ کے نور کا ایک یہ مطلب بھی ہے کہ انصاف کی نظر پیدا کرے انصاف کا سر چشمہ خدا ہے۔خدا کا نور بدصورت کو بدصورت اور خوبصورت کو خوبصورت دکھاتا ہے اور یہ انصاف کی ایک بنیادی تعریف ہے کہ جیسی کوئی چیز ہے ویسا ہی دکھائے اس کو۔تو اللہ کے نور سے دیکھنے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق تصور نہیں باندھا کرتے اور اپنے تعلقات کے نتیجے میں وہ لوگوں کے حلیئے نہیں بگاڑتے یا تصور میں ان کو زیادہ حسین نہیں بنا دیتے۔وہ لوگ جو خدا کے نور کے بغیر دیکھتے ہیں بعض دفعہ ان کے محبوب ان کو ایسے خوبصورت دکھائی دیتے ہیں کہ کوئی خرابی کا شائبہ تک ان میں دکھائی نہیں دیتا اور بعض لوگ جوان کے دشمن ہوں ان کو ایسے بدصورت دکھائی دیتے ہیں کہ حسن کا کوئی اشارہ تک ان میں نہیں پایا جاتا۔یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے نور سے نہیں دیکھتے کیونکہ خدا کے نور کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف کی نظر سے دیکھیں جو چیز جیسی ہے ویسی دکھا ئیں۔اب یہ جو سورج ہے یہ بھی تو خدا کا نور ہے اب دیکھیں سورج ہر چیز کو اپنی اصلیت میں