خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 372
خطبات طاہر جلد 14 372 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ: 373) یہاں یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ جو آیات میں نے تلاوت کی تھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان آیات کی تفصیل کے دوران سورۃ فاتحہ کو بھی داخل فرمایا ہے اور اس کے آغاز کو کیونکہ ان کے بغیر، ان کے سہارے کے بغیر ان آیات کی پوری حقیقی سمجھ نہیں آسکتی۔سورۃ فاتحہ چونکہ ام الکتاب ہے یعنی تمام قرآن کریم کی ماں ہے ان معنوں میں کہ ماں کے پیٹ میں بچہ جو صفات لے کر پیدا ہوتا ہے وہ نشو و نما پا کر پھر پھیل جاتی ہیں اور اس کی ساری زندگی پر محیط ہو جاتی ہیں۔دیکھنے میں باہر آ کر انسان بہت ترقی کرتا ہے اور یقین نہیں آ سکتا کہ وہی بچہ تھا جو ماں کے پیٹ میں تھا مگر ایک بھی صفت وہ بعد میں اپنی خود بنا نہیں سکتا۔وہ تمام تر مادے جو اس کے اندر صلاحیت کے موجود ہیں وہ ماں کے پیٹ سے لیتا ہے۔اگر نہ لے کر چلے تو وہ کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اسی لیے ڈاکٹرز جب کوئی مریض دکھایا جائے اور اس سے مایوسی کا اظہار کریں تو بسا اوقات کہتے ہیں کہ ایک Congenital کیس ہے یعنی Congenital اندھا ہے، مادر زاد اندھا ہے اس کے فلاں آثار ماں کے پیٹ میں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اس لیے اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ماں کے پیٹ میں بعد میں بننے والا انسان تمام تر ایک بلیو پرنٹ کے طور پر بن جاتا ہے اور جو بن گیا بن گیا اس کے بعد کچھ نہیں بن سکتا۔پس اسی لیے صفات باری تعالیٰ جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں ان کا تعلق تمام تر قرآن کریم سے ہے اور قرآن کریم میں اسماء الہی جس رنگ میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے یا ان کی تشریح ملتی ہے ان کو مزید سمجھنے کے لیے ان چار بنیادی صفات کو سمجھنا ضروری ہے اور ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق قائم ہوگا۔اس لیے اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی سورۃ پر گفتگو فرمارہے ہیں علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ لیکن بیچ میں سورۃ فاتحہ کی یہ صفات داخل فرما کر پھر مضمون کو دوبارہ واپس انہی آیات کی طرف لے جاتے ہیں۔یہاں فرمایا مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ وہ جزا سزا کے دن کا مالک ہے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پرداز سب جزا سزا دیتا ہو اور آئندہ دینے والا ہو یعنی خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کے سپر د جزا سزا کا نظام اللہ تعالیٰ نے سونپ دیا ہو اور خود الگ ہو