خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 371

خطبات طاہر جلد 14 371 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء رکھتا ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علِیمُ الْغَيْبِ سے تعلق جوڑ کے اس مضمون کو ہم پر روشن فرمایا۔ایک اور مضمون اس میں یہ قابل توجہ ہے کہ یہ جتنے بھی اسماء باری تعالی بیان ہو رہے ہیں اس کے آغاز میں اللہ نے ایک عنوان لگایا ہے اور وہ ہے هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وہی ایک اللہ ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔پس جتنی بھی صفات باری تعالی بعد میں بیان ہوتی ہیں ان کا دراصل توحید کی آخری سورۃ سے تعلق ہے جو سب سے اعلیٰ شان کی تو حید ہے وہ اس سے ظاہر ہوتی ہے۔پس اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو ان آیات کی تشریح فرما ر ہے ہیں ان کو غور سے پڑھیں تو اور نئے سے نئے دلچسپ اور دلکش مضامین ابھرتے چلے آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں، پھر فرمایا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ یہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔پھر فرماتے ہیں الرحِیم کے متعلق بھی میں کچھ بیان کر چکا ہوں اگر چہ بہت وسیع مضمون ہے اور اس کے لئے میں نے مختصر بیان کیا تھا کہ جب میں انگلستان آیا تھا تو مسلسل دوتین سال درسوں میں ، جو رمضان میں درس ہوتے تھے اس میں انہی صفات پر بحث گزری ہے یعنی سورۃ فاتحہ کے آغاز میں جو چار صفات باری تعالی بیان ہوئی ہیں رَبِّ الْعَلَمِينَ في الرَّحْمَنِ الرَّحِيهِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تو چونکہ وہ مضمون بیان ہو چکا ہے اور بعد میں بھی درس کے دوران مختلف جگہ دہرایا گیا ہے اس لیے میں نے ان خطبات سے اس حصہ کو چھوڑ دیا ہے، الگ رکھ دیا ہے ورنہ یہ خطبات کا سلسلہ بہت لمبا ہو جاتا تو اگر کسی کو دلچسپی ہے تو ان بنیادی صفات باری تعالیٰ سے متعلق پرانے درسوں کی کیسٹیں وغیرہ حاصل کر لے ان میں انشاء اللہ تعالیٰ ان کے لیے کافی روشنی کے سامان ملیں گے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا ذکر فرماتے ہیں۔۔۔۔یعنی وہ خدا جو ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو دو