خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد 14 373 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء بیٹھا ہو۔یہ مضمون سمجھ کر تو حید کا مضمون ایک نئی شان کے ساتھ ابھرتا ہے اور غیر اللہ سے انسان کلیۂ مستغنی ہو جاتا ہے کیونکہ دنیا میں تو یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اپنے ماتحتوں کو کچھ نہ کچھ جزا سزا کے اختیار دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں لوگ ان کی محتاجی ہمیشہ محسوس کرتے ہیں۔اگر چہ محبوب کوئی اور ہی ہوں مگر اس کے نوکروں کی خوشامد میں کرنا بھی دنیا کی شاعری میں آپ کو ہر جگہ مضمون ملتا ہے۔غالب اس مضمون کو یوں بیان کرتا ہے: واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں (دیوان غالب : 180) یعنی جتنی بھی دعا ئیں مجھے یاد تھیں وہ تو میں دربان کو دے بیٹھا ہوں کہ کسی طرح وہ مجھے چوکھٹ سے گزر کر محبوب تک پہنچنے کی اجازت دے دے۔اب اس نے گالیاں دیں ہر گالی کا میں نے جواب دعا سے دیا اور جتنی دعا ئیں تھیں وہ دربان کے حضور صرف کر ڈالی ہیں۔اب اوپر جا کر جو میری شامت آئے گی اور وہاں سے جو مجھے گالیاں ملیں گی میں اُن کا کیا جواب دوں گا وہ تو میں دربان کو دے بیٹھا ہوں۔یہ مضمون ہے اور ایک اور شعر میں وہ کہتا ہے: گدا سمجھ کے وہ چپ تھا میری جو شامت آئی اُٹھا اور اُٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے (دیوان غالب : 359) کہ پاسباں جو میرے محبوب کی ڈیوڑھی پر بیٹھا حفاظت کر رہا ہے وہ پہلے سمجھا تھا کوئی فقیر آیا ہے اور خاموش بیٹھا ہوا تھا۔مجھے جو شوق چڑھا کہ میں اس کی خوشامد کروں تا کہ اس کے ذریعہ سے مجھے رسائی ہو تو اُٹھ کر میں نے اس کے قدم تھام لئے۔اب وہ سمجھ گیا کہ فقیروں کی تو یہ عادت نہیں ہے کہ پاسبانوں کے قدم تھامے یہ اور کوئی مخلوق آئی ہے چنانچہ اس نے پھر میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ میری شامت آئی“ کے لفظوں میں بیان ہوا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس پہلو سے کسی کو پاسباں مقرر نہیں فرمایا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کو بھی فرماتا ہے لَسْتَ عَلَيْهِمُ بِمُصَّيْطِرٍ (الغاشیہ:23 ) تو ان پر داروغہ نہیں تو نہ ان کو کچھ دے گانہ ان سے کچھ لے سکتا ہے۔میں ہی ہوں جو اپنی مخلوق سے جیسا چاہوں سلوک کروں۔اس لیے آخرى مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ وہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سوا کسی کے پاس ہمارے