خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 370

خطبات طاہر جلد 14 370 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء آپ خدا کے غیب کے علم کو ختم سمجھیں گے وہیں خدا کا وجود ختم ہو جائے گا لیکن غیب باقی ہوگا۔پس جب اللہ فرماتا ہے کہ وہ علِمُ الْغَيْبِ ہے تو ماضی میں بھی آخری کنارے تک آپ سوچتے چلے جائیں۔اس کے بعد پھر اور مضمون آگے بڑھ جائے اور حقیقت میں غیب کا نہ ماضی میں کوئی کنارہ ہے نہ مستقبل میں کوئی کنارہ ہے۔پس علم الغیب کا مطلب یہ ہے کہ اسے فنا نہیں اور دوسری چیزوں کو فنا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی اور چیز علِمُ الْغَيْبِ نہیں ہے۔پس عُلِمُ الْغَيْبِ نہ ہونا فنا کی دلیل ہے اور علِمُ الْغَيْبِ ہونا لامتناہی بقاء کی دلیل ہے۔ماضی میں بھی ہمیشہ سے ہے اور مستقبل میں بھی وہ ہمیشہ رہے گا۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علِمُ الْغَيْبِ سے یوں نکالا ہے فرمایا وہ جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی یعنی ہر دوسرے کا غیب ختم ہو جائے گا وہ منصہ شہود میں جواُ بھرتے ہیں عارضی طور پر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے مگر ایک ایسا وقت آئے گا کہ خدا کے غیب میں کوئی بھی شریک نہیں رہے گا اور وہ جو غیب کا آخری مضمون ہے یہ خدا کے باقی رہنے اور غیر اللہ کے کلیاً مٹ جانے کا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علِمُ الْغَيْبِ کی تشریح میں بیان فرمایا۔فرماتے ہیں: " وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو تو ڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔۔۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ: 373) یہ وقتوں کو جاننے والا وہی مضمون ہے جو مجھے رویا میں دکھایا گیا تھا کہ اللہ وقت سے بالا ہے اور اس پر وقت نہیں گزرتا۔پس وہ جو ماضی کے وقت کو بھی جانتا ہے اور مستقبل کے وقت کو بھی جانتا ہے، اس کا ماضی میں ہونا وقت سے بالا اور مستقبل میں ہونا وقت سے بالا ، یہ قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے یعنی وقت اس میں کوئی تبدیلی ایسی پیدا نہیں کرتا کہ ماضی کا خدا حال کے خدا سے الگ ہو چکا ہوا اور حال کا خدا مستقبل کے خدا سے جدا ہو گیا ہو۔اس کی صفات میں کوئی ایسی تبدیلی واقع نہیں ہوتی کہ جسے دیکھ کر ہم کہہ سکیں یہ پرانے وقت کی باتیں ہیں اس وقت خدا ایسا ہوا کرتا تھا، یا یہ آج کی بات ہے کل ویسا نہیں رہے گا۔پس خدا کا وقت سے بالا ہونا اس کے ہمیشہ ہونے کے ساتھ ایک ایسا تعلق