خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد 14 369 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء مجلس لگی ہے بوسنین اور البانین کے ساتھ اس میں 1082 بیعتیں اور شامل ہو گئیں تو اب خدا کے فضل سے 5282 بیعتیں مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے حصے میں آئی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بڑی کامیابی ہے۔مگر ابھی کافی سفر باقی ہے انہوں نے دس ہزار بیعتوں کا عہد کیا تھا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے چند ہفتے پہلے تک تو صرف چند سو تھیں اب خدا نے جب رفتار تیز فرمائی ہے سینکڑوں کو ہزاروں میں بدلا ہے تو آپ کو بھی دعا کرتے رہنا چاہئے اور پورے زور سے آخری کوشش کرنی چاہئے کہ جلسہ سالانہ یو کے تک جو سال ختم ہوتا ہے اس سے پہلے پہلے اپنا ٹارگٹ 10000 پورا کر سکیں اور اللہ چاہے تو اس کے علاوہ اور بھی آپ کو عطا فرمائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں غیب پر بحث فرمائی ہے وہاں ایک عجیب معنی اس سے خدا تعالیٰ کے ہمیشہ ہونے کا نکالا ہے اور یہ کلام ظاہر کرتا ہے کہ کس حد تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے عرفان عطا فرمایا تھا کیونکہ تمام اسلامی لٹریچر میں اس پہلو سے غیب کے مضمون کو نہ سمجھا گیا نہ اس پر روشنی ڈالی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ عالم الغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ: وہ جانتا ہے کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا۔“ یہ جو عبارت ہے اس کو گہرائی میں اتر کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہم جو بھی شعور رکھتے ہیں خواہ انسان ہوں یا ادنیٰ سے ادنیٰ جانور، ایک گوبر کا کیڑا ہو وہ کچھ نہ کچھ شعور رکھتا ہے اور اپنے اپنے شعور کے مطابق اس کا ایک عالم ہے اس کے آگے اور پیچھے سب غیب ہے۔اور غیب کا علم صرف خدا کے لئے ہے کیونکہ وہ شخص جو مرتا ہے اس کے ساتھ پورا عالم مر جاتا ہے اس کا غیب بھی ساتھ ہی فنا ہو جاتا ہے۔پس اگر کچھ اندازے کرتا بھی ہے کہ آئندہ کیا ہوگا تو وہ اندازے اس کی زندگی تک ہیں، اس کی فنا کے ساتھ اس کا غیب بھی مٹ جاتا ہے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو عَلِمُ الْغَيْبِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے غیب کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔کوئی ازل میں ایسا مقام نہیں ہے جہاں کے غیب کا اس کو علم نہ ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ازل سے ہے۔اگر وہ ازل سے نہ ہو تو علِمُ الْغَيْبِ کہا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ آپ ماضی میں سفر شروع کریں جہاں جا کر