خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد 14 367 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء مقام کو خوب سمجھا ہے اور کبھی اشارہ بھی کوئی ایسی بات ظاہر نہیں ہونے دی جس سے خودسری کی یو آتی ہو۔پس اس نہج پر آگے بڑھتے رہیں اللہ آپ کا حامی و ناصر ہواور اجتماعی برکتیں آپ کو نصیب ہوں۔برکتیں ہیں ہی وہی ، جو اجتماعیت سے حاصل ہوتی ہیں ورنہ انفرادیت تو دراصل موت کا پیغام ہے۔انفرادیت نظام کے بکھرنے کو کہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ترکیب اجزا ہی سے زندگی بنتی ہے اور جب ترکیب اجزا منتشر ہونے لگتی ہے تو اسی کا نام موت ہے۔تو اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ کی ابدی زندگی عطا فرمائے ، روحانی لحاظ سے آپ کی صحت دن بدن بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے اور جماعت کا پہلے سے بڑھ کر ایک فعال حصہ بن سکیں۔خطبات کے تعلق میں میں علِمُ الْغَيْبِ کا مضمون بیان کر رہا تھا اور اس کے بعد پھر رحمان اور رحیم کے مضمون میں بھی داخل ہوئے تھے لیکن علِمُ الْغَيْبِ کے تعلق میں ایک یہ بات بھی بیان کرنی ضروری ہے کہ جہاں تک مومن کی زندگی کا تعلق ہے اس کا غیب خدا کے قبضہ قدرت میں ان معنوں میں ہے کہ اس کے غیب سے ہمیشہ مومن کے لئے ایسے امور رونما ہوتے ہیں جو اس کے دل کو پسند ہوں، اس کی خواہشات کے مطابق ہوں۔تکلیفیں ظاہر ہوتی ہیں تو تھوڑی اور خوشیوں کا حصہ ہمیشہ غالب رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے کہ غموں کا ایک دن اور چار شادی فسجان الذى اخری الا عادی (در مشین: 46) ایک غم کا دن ہے تو چار شادی اور خوشی کے دن خدا دکھاتا ہے اور اسی طرح دشمنوں کو ذلیل کرتا چلا جاتا ہے۔مومنوں کا غیب محفوظ ہے کیونکہ ایک پیار کرنے والے خدا کے قبضہ قدرت میں ہے لیکن دشمنوں کا غیب ہمیشہ ذلیل اور رسوا کن ہوتا ہے۔خود بھی ذلیل اور اوروں کو بھی ذلیل کرنے والا۔اسی وجہ سے جوں جوں غیب سے پردے اٹھتے ہیں مومن کو زیادہ خوشخبریاں ملنی شروع ہوتی ہیں اور جوں جوں غیب سے پردے اٹھتے ہیں دشمن کی شہادت جو بظاہر خوشی سے لبریز ہوتی ہے یعنی اس کی حاضر زندگی وہ تکلیفوں اور دکھوں اور مایوسیوں میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔یہ ایک ایسی جاری تقدیر ہے، ایک سنت اللہ ہے جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتے دیکھیں گے۔پس اس پہلو سے کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھیں کہ پردہ غیب میں جو کچھ بھی ہے ہمارے