خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد 14 366 خطبہ جمعہ 26 مئی 1995ء طور پر جماعت کا ایک صحت مند جزو بنی ہوئی ہیں اور ان کی اپنی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وہ جماعت کے بدن کا ایک جزو بن کر رہیں اس سے الگ اپنی کوئی ایسی شخصیت نہ بنا بیٹھیں جیسے ایک بدن کے اندر کوئی بیرونی شخصیت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ اگر ایک بدن کا کوئی عضو یا کسی عضو کا کوئی حصہ اپنا الگ تشخص بنا بیٹھے تو اسی کا نام کینسر ہوا کرتا ہے اور یہ کینسر پھر باقی بدن کو بھی کھا جاتا ہے۔اس لئے نظامِ جماعت کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو مسلمان کی تعریف فرمائی ہے وہی صادق آئے تو یہ نظام زندہ رہے گا ور نہ ختم ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا مومن ایسے بھائی بھائی ہیں کہ گویا ایک بدن کے اعضاء ہیں اور بدن میں اگر پاؤں کی انگلی کے کنارے پر بھی کوئی تکلیف پہنچے تو سارا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔اس لئے مجلس خدام الاحمدیہ ہو یا مجلس انصار اللہ یا مجلس لجنہ اماءاللہ یا ذیلی تنظیمیں یا اور کئی قسم کے ذیلی گروہ ہوں جو خدمت دین کے لئے بنائے جاتے ہیں وہ ہمیشہ یا درکھیں کہ وہ ایک بدن کا حصہ رہ کر ہی زندہ رہ سکتے ہیں اور ایک بدن کا حصہ رہ کر ہی دوسرے بدن کے لئے خوشخبری کا پیغام بنتے ہیں ورنہ اگر انہوں نے اپنا الگ تشخص قائم کرنے کی کوشش کی تو باقی سب بدن کے لئے نحوست اور لعنت کا پیغام بن جائیں گے۔اس پہلو سے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے اور دلی اطمینان کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے اگر شروع میں کبھی کچھ ذیلی گروہوں کی طرف سے سر اٹھانے کے رجحانات پیدا بھی ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو یکسر مٹا دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں وہ رجحانات بھی لاعلمی یا غلط نہی کی وجہ سے ہوئے تھے عدم تربیت کا نتیجہ تھے، دلوں میں کوئی ایسی کبھی نہیں تھی کہ وہ ایک مستقل خطرہ بن جاتے۔پس الحمد للہ اس وقت جماعت جرمنی ایک ہاتھ کے نیچے اس طرح اکٹھی ہے جس طرح اسلام کا تصور آنحضرت مو نے پیش فرمایا ہے۔سب ایک ہی بدن کا حصہ ہیں، ایک دوسرے کی خوشی کو محسوس کرنے والے، ایک دوسرے کے غم سے تکلیف اٹھانے والے اور مجلس خدام الاحمدیہ اس پہلو سے مبارکباد کی مستحق ہے کہ اگر چہ ایک بہت بڑی اور فعال تنظیم ہے جو جماعت احمدیہ جرمنی کے بدن کا سب سے بڑا حصہ ہے کیونکہ یہاں نو جوانوں کی تعداد دوسروں کے مقابل پر باقی دنیا کی جماعتوں سے زیادہ ہے، اس کے باوجود انہوں نے اپنے بجز اور انکساری کے