خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد 14 368 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء لیے بہتر ہے اور دشمن کے لئے اس میں رسوائیاں اور نا کامیاں ہیں۔یہ یقین ہے جو عمل کو مزید طاقت بخشتا ہے۔اپنی آخرت پر، اپنے انجام پر یقین ، قوموں کے لئے بہت قوت اور یکجہتی کا باعث بنتا ہے۔ان کی اجتماعیت کو قائم رکھنے میں یہ یقین بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔پس اس پہلو سے ہم عالم الغیب خدا کے حضور ہمیشہ سجدہ ریز رہیں گے کہ وہ اپنے غیب سے ہمارے لئے جو کچھ بھی نکالے خیر کے سامان نکالے اور دشمن دن بدن ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھتا ر ہے۔پس پردہ غیب سے اس کے لئے تو نا مرادیاں نکلتی رہیں اور ہمارے لیے کامیابیاں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی خوشخبریاں۔اس پہلو سے ابھی چند دن کا ایک ذکر ہے مجھے خیال آیا کہ اس موقع پر میں آپ کو بتاؤں کہ خوف تو مومن کو بھی ان معنوں میں ہوتا ہے کہ پتا نہیں ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں گے کہ نہیں مگر خوف مومن پر غالب نہیں آتا۔مایوسی میں نہیں تبدیل ہوتا۔چند دن پہلے تک خدام الاحمدیہ جرمنی کی طرف سے ان کے شعبہ تبلیغ کی طرف سے مجھے بہت پریشانی کے خط مل رہے تھے کہ بہت محنت کر رہے ہیں ، بہت کوشش کر رہے ہیں مگر پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ ابھی تک ہماری کوششوں کو کامیابی کے پھل نہیں لگے۔چنانچہ انہوں نے خطوں میں لکھا کہ ہم دعا کی غرض سے یہ بات لکھ رہے ہیں لیکن ہم مایوس نہیں ہیں اللہ جب چاہے گا اپنا فضل فرمائے گا۔آنے سے ایک روز پہلے مجھے اچانک مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے جو انچارج ہیں اس گروپ کے ان کی طرف سے خوشخبری کا خط ملا کہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے اور اس طرح اچانک پھل گرنے شروع ہوئے ہیں جیسے پکنے کا انتظار کر رہے تھے اور اب ہر طرف سے خوشیوں کی خبریں مل رہی ہیں اور ہماری توقع کے بالکل برعکس اور خلاف، ہماری تبلیغ میں غیر معمولی کامیابی ہونی شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے لکھا کہ پہلے بوسنین اور البانین بات سنتے بھی تھے تو مثبت نتیجہ ظاہر نہیں کرتے تھے اور کچھ شکوں میں مبتلا رہتے تھے۔اب اچانک ہر طرف سے اطلاعیں ملنی شروع ہوئی ہیں کہ اتنے سو وہاں ہو گئے ،اتنے سوا دھر ہو گئے اور خود بخود رابطے کر کے وہ بیعت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل۔شامل ہورہے ہیں۔اس پہلو سے جو اعداد و شمار ہیں وہ کل تک کے یہ تھے جو پہلے بیعتیں سینکڑوں میں تھیں ނ میرے یہاں آنے سے پہلے 4200 ہو چکی تھیں۔صرف خدام الاحمدیہ جرمنی کا حصہ اور کل جو ہماری