خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد 14 360 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء یعنی کتاب تو مجھے نہیں پتا لیکن ایک کمپیوٹر سپیشلسٹ کا بہت بڑا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ اس نے بڑے کمپیوٹر کے ذریعہ بڑا بھاری حساب دان ہے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ Chaos اتفاقاً، اتفاقی حادثات کے نتیجے میں ایک نظم و ضبط میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ اب وہ جو اعلان موٹے موٹے لگے ہوئے ہیں مضمون کے اوپر بڑے دھو کے دینے والے ہیں ، ایک سادہ آدمی ، عام آدمی جس کو ان باتوں کا پتا ہی نہیں پڑھے گا تو کہے گا دیکھو جی ثابت ہو گیا کسی خدا کی ضرورت نہیں لیکن وہ مضمون میں خود دراصل اپنے دھو کے کو ننگا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور یہ بات ماننے پر مجبور ہے کہ جتنے بھی Possible مختلف امکانی رستے ہیں ، ان میں سے جو رستے واقعہ سامنینظر آ رہے ہیں اگر ان کے مطابق کمپیوٹر بنایا جائے تو جتنی دیر Chaos کو نظم و ضبط میں یا افراتفری کو نظم و ضبط میں تبدیل ہونے کے لئے چاہئے اس کے لئے جو زمانے کا ہمارا تصور ہے اس سے لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ وقت چاہئے اور وہ بھی غلط ہے کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ نظم وضبط کا سفر ہمیشہ بے نظمی کی طرف ہوتا ہے اور بے نظمی کا سفر نظم و ضبط کی طرف نہیں ہوا کرتا سوائے اسکے کہ کوئی منظم بے نظم کو ظلم می تبدیل فرما دے۔ تو یہ ایک ایسی شہادت ہے جس سے آنکھیں بند کرنا سب سے بڑی جہالت ہے۔ کمپیوٹر کا کیا ہے اس میں جو مرضی Feed کر دو گے ویسی چیزیں نکال لو لیکن اس کے باوجود وہ باتیں نہیں نکل رہیں جو اپنی مرضی کی ڈالتے ہیں پھر بھی نہیں نکلتیں ۔ اب روزانہ گھر کا معاملہ ہے جو عورت غیر منظم ذہن رکھتی ہو، افراتفری بے ترتیبی سے چلنے والی ہو اس عورت کا گھر ہمیشہ اکھڑا پکھڑا ہی دکھائی دے گا۔ کوئی چیز یہاں پڑی ہے کوئی چیز وہاں پڑی ہے کہیں صوفہ سیٹ کے اوپر کپڑے سوکھنے کے لئے ڈالے ہوئے ہیں، کہیں باہر گندے کپڑے لٹکائے ہوئے ہیں، خیال ہی کوئی نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے اور ہر جگہ گھر بھر ڈھونڈنی پڑتی ہے چیز ۔ خاوند کہتا ہے جی میری ٹائی کہاں گئی ، اچھا جی میں ابھی دیکھتی ہوں اور وہ دونوں لگے ہوئے ہیں اور بیوی کو چمچہ چاہئے وہ چمچہ نہیں مل رہا۔ ایسی افراتفری لیکن جب وہ ایک دن لگا کر ٹھیک کرتے ہیں تو کچھ دیر کے بعد پھر وہی شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن کبھی آپ نے یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ افراتفری والا گھر آہستہ آہستہ منتظم ہورہا ہو خود بخود اور چیزیں خود بخود سلیقے سے لگ رہی ہوں یہاں تک کہ انتہائی سلجھی ہوئی خاتون کے گھر کی طرح ایک بد تمیز اور بے وقوف خاتون کا گھر نظم وضبط کے ساتھ ابھر کر ایک دلکش چیز بن کر سامنے آجائے ، ناممکن ہے۔