خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد 14 361 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء ہر چیز کے لئے Maintenance کی ضرورت ہے جہاں نظم وضبط کی ضرورت ہے۔انسان گھر بناتا ہے تو ایک آرکیٹکٹ اس کا ڈیزائن بناتا ہے۔اس ڈیزائن کے بنانے کے بعد اس کو جس طرح بنایا جاتا ہے اگر اس کو اسی طرح Maintain نہ کیا جائے تو غیر متحرک جامد گھر بھی اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہ سکتا اور جو چیز حرکت کرنے والی ہو اس کی ہر لمحہ حفاظت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔اب موٹر کار چلاتے وقت ایک لمحہ کے لئے آپ کی آنکھ بند ہو جائے ،سو جائیں تو حادثہ ہو جائے گا۔بعض دفعہ خدا کا فضل ہے جو بچا لے مگر وہاں پھر خدا Take Over کر لیتا ہے وہ اور بات ہے۔مگر بغیر کسی باشعور ہستی کے نظم و ضبط جتنا متحرک ہوگا اتنا ہی خطرناک ہو جائے گا۔یہ معاملہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں خدا پر علم کے تعلق میں۔آپ فرماتے ہیں وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ جہاں خدا اعلم اشیاء سے غافل ہوا وہاں حادثہ، ضرور تصادم ضرور نظم بد نظمی میں تبدیل ہو گا۔پھر فرماتے ہیں ” وہ اس عالم کے ذرے ذرے پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا ، یہاں انسان کے علِمُ الْغَيْبِ ہونے کی بھی نفی ہے اور عالم الشہادہ ہونے کی بھی نفی ہے۔انسان تو نظر کے محدود دائرے میں ہی اصل نظر رکھ سکتا ہے ور نہ حقیقت یہ ہے کہ جاگتا ہوا انسان، باشعور، خبر دار انسان بھی اپنے بعض پہلوؤں سے غافل ہی رہتا ہے بے چارہ اور اس کی چوری ضرور ہو جاتی ہے۔اگر کوئی چور ایسا چالاک مل جائے اس کو پتا چلے کہ شیطان کی طرح میں کہاں سے حملہ کروں جس کو یہ نہیں دیکھ رہا تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو انسان تو پھر کبھی بھی کچھ بھی نقصان نہ اٹھا سکتا اور جتنا شاطر چور ہو شیطان کی طرح اتنا ہی انسان کی غفلت کے بعض لمحوں سے بھی فائدہ اٹھا جاتا ہے اس لئے وہ غفلت کے لمحے بھی اللہ کی حفاظت میں ہونے چاہئیں۔یہ وہ پہلو ہے جس کا غیب والے مضمون سے تعلق جوڑ کر آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ گناہ سے نجات محض اس وجہ سے نہیں ہو سکتی کہ آپ خدا کو حاضر سمجھیں اور یہ سمجھیں کہ غیب ہونے کے باوجودوہ نظر رکھ رہا ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ خدا کو حاضر اور اپنے آپ کو ان معنوں میں غیب سمجھیں کہ اپنے حال سے بھی غیب ہیں اور اپنے حال پر نظر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ حوالے دے کر التجا کریں کہ میں تو اپنے نفس سے بھی غافل ہوں اور اپنے نفس کے اندھیروں میں بسا اوقات ایسی جگہیں ہوں گی جہاں