خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد 14 343 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء نے منفی اثر بھی دکھایا اور جزا اور سزا کا ایک مضمون مترتب ہوا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وہ غیب کا بھی عالم ہے اور شہادہ کا بھی وہ عالم ہے اور یاد رکھو تم غیب سے ابھرے تھے اور شہادہ میں آگئے ہو۔هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ وه رحمان بھی ہے جس نے تمہیں غیب سے اچھال کر عالم شہادہ میں ڈال دیا، نکال دیا اور عالم شہادہ میں تمہیں جس طرح ستارے اچھالتے ہیں تمہیں اچھال دیا اور پھر یاد رکھنا وہ رحیم ہے اور رحیمیت کا مضمون آگے جاری رہے گا، یہاں ختم نہیں ہو جائے گا۔پھر جب تم غیب میں جاؤ گے تو پھر ایک رحیم خدا تمہارا حساب لینے والا وہاں کھڑا ہوگا اور اس کو ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ فرمایا ہے۔تو غیب سے نکلے ہو اور غیب میں پھر اچھال دیئے جاؤ گے اور اس میں غرق ہو کر ہمیشہ کے لئے خود غائب نہیں ہو سکتے۔جس کو خدا نے غیب سے اٹھا دیا ہے وہ اپنے مقصد پورے کئے بغیر پھر کبھی غائب نہیں ہو سکتا اور نہ خدا اسے غائب ہونے دے گا یہاں تک کہ رحیمیت اس کے ساتھ ساتھ چلے گی۔رحیمیت سے تعلق ٹوٹے گا تو سزا پائے گا، رحیمیت سے تعلق قائم رکھے گا تو جزا پائے گا اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ایک ایک ذرے کا حساب دینے والا موجود ہوگا اور وہاں سے پھر ایک نیا عالم غیب شروع ہو جاتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس عالم کے متعلق فرمایا کہ کوئی آنکھ نہیں ہے جس نے دیکھا ہو، کوئی کان نہیں جس نے سنا ہو ایک اور عالم غیب بن گیا پھر۔تو ایک غیب سے اچھالے گئے ، ایک شہادہ میں داخل ہوئے کچھ شہادہ سے اچھالے گئے غیب میں ڈوبے اور ایک اور شہادہ میں داخل ہوں گے جو اس وقت پردہ غیب میں ہے۔تو خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے انسان کو اپنی کہنہ ، اپنی وجہ پیدائش کا علم ہوتا ہے، اپنی زندگی کے مقاصد کا علم ہوتا ہے اور تعلق باللہ کا مضمون روشن ہوتا ہے۔آپ دس کروڑ دفعہ بھی پڑھیں علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اگر غور نہیں کرتے تو اس ذکر کو حقیقت میں ذکر نہیں کہا جا سکتا۔ذکر وہ ہے جو تبدیلیاں انسان کے اندر پیدا کرتا ہے۔تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ (الزمر:24) ایسا ذکر ، ایسی تلاوت، جس سے انسان کے جسم پر لرزہ طاری ہو جائے ، یہ ذکر خالی زبان سے وہ اثر دکھا ہی نہیں سکتا۔پس صفات باری تعالیٰ پر غور کرنا اور کرتے رہنا ہمارے لئے بے انتہا ضروری ہے اور اس پر غور کے نتیجے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا در حقیقت ہم اپنی جنت بنا رہے ہوں گے کیونکہ مرنے