خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 344

خطبات طاہر جلد 14 344 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء کے بعد جس عالم غیب کی میں نے بات کی ہے اس عالم غیب میں خدا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ہر غیر اللہ وہاں سے باہر ہے۔جنت میں شیطان کو جو داخل ہونے کی اجازت نہیں یا کسی غیر اللہ کو اجازت نہیں اس کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ دراصل جنت خدا کے وجودہی سے بنتی ہے۔اگر غیر اللہ کا وجود داخل ہو تو باقی جنت کو بھی وہ جہنم بنادے گا۔اگر خدا کے سوا کوئی اور تصور پیدا ہو تو ساری کائنات میں فساد برپا ہو جائے گا۔یہ وہی مضمون ہے جو دراصل جنت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔پس آپ نے اپنی جنت خود بنانی ہے اور یہ جنت اللہ کے اسماء سے بنے گی اور اسماء الہی پر غور کے نتیجے میں آپ کے اندر جو روحانی تبدیلیاں پیدا ہوں گی اور بعض اوقات ایسا ہوگا جیسے زلزلہ طاری ہو گیا ہے۔یہ وہ چیزیں ہیں جو ذکر کہلاتی ہیں اور یہی وہ ذکر ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ (العنکبوت: ۴۶)۔عبادت تو لازم ہے جو عبادت کرے گا اگر وہ تقاضے ظاہری پورے کرتا ہے تو اس کی عبادت ہوگئی لیکن بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ عبادت سب سے افضل ہے یعنی ظاہری عبادت جس کو صلوۃ کہا جاتا ہے اور اللہ فرما رہا ہے وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ اللہ کا ذکر جس کے لئے کسی خاص طرز کی ضرورت نہیں ہے یعنی فرض کے علاوہ ہے وہ ذکر جو مستقل جاری ہے اور عبادت میں بھی جب تک ذکر داخل نہ ہو عبادت زندہ نہیں ہوسکتی۔تو وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ کا مطلب یہ ہے کہ اصل سب کچھ ، جو کچھ بھی ہے وہ ذکر میں ہے جیسے اللہ اکبر ہم کہتے ہیں تو استعمال تو کرتے ہیں ذرا ہیجان پیدا کرنے کے لئے نعرہ بازی کے شوق میں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ اکبر اور وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اس کی کبریائی کو سمجھنے کے لئے اس کی صفات پر غور ضروری ہے اور جوں جوں ان صفات پر غور میں آپ آگے بڑھتے ہیں آپ کے اندر سے ایک خدا کے وجود کا تصور ابھرتا ہے اور آپ کا خدا اتنا ہی ہے کسی کا کم خدا ہے کسی کا زیادہ ہے اور بظاہر سب کا ہے۔تو یہ جو خدا کی صفات میں یہ مضمون ہوتا ہے کہ فَانِي قَرِيبٌ (البقرہ: 187) میں قریب بھی ہوں اور پھر یہ کہ میں سب سے زیادہ دور بھی ہوں، اتنا بلندتر ہوں کہ وہاں تک کسی کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ہے، دکھائی بھی نہیں دیتا۔قرآن کریم ایسی کتاب ہے جو کتاب مبین ہے، کھلی کھلی ہے اور ایسی کتاب ہے جو مکنون “ ہے، جو چھپی ہوئی ہے، اس تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔تو سارے مضامین میں دراصل تضادات نہیں ہیں بلکہ مختلف پہلو ہیں۔