خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد 14 333 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء میں؟ میری جنت میں اور یہاں وہ جنت ؟ جنت نہیں ہے جس میں فرمایا مِمَّا يَشْتَهُونَ (المرسلات : 43) ان کو وہ چیزیں بھی ملیں گی جن کی وہ اشتہاء کرتے ہیں ۔ اشتہاء اس کے سوا ہے ہی کوئی نہیں کہ مرضیہ رہیں ۔ راضی رہیں اس بات پر جس پر خدا راضی ہے۔ اس کے بعد اپنی خواہش کہاں باقی رہی کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ تو اس لئے اس مضمون کو اگر ٹھہر ٹھہر کر کھول کھول کر بیان کیا جائے تو ایک ہی چھوٹی سی شاخ پر کھڑے ہو کر ایک لمبا زندگی کا وقت اور اس کا سفر طے کیا جا سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے یہ بہر حال کچھ نمونے ہیں جو دینے ہوں گے تاکہ ان رستوں پر چل کر آپ غور کریں اور صفات باری تعالیٰ کو کوئی آسمانی ایسا مضمون نہ سمجھیں جو اوپر ہے۔ وہ ایسا مضمون ہے جو زمین پر اترتا ہے اور انبیاء کے ذریعے اترتا ہے۔ حضرت مسیح نے جو دعا مانگی تھی کہ اے خدا جو آسمان پر ہے زمین پر بھی اتر ۔ وہ حقیقت میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں پوری ہوئی ہے ۔ آپ کے جلوے کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔ وہ جو آسمان پر خدا تھا گویا زمین پر اتر آیا اور وہ صفات سے اترتا ہے۔ وہ کوئی جسمانی سفر طے کر کے تو نہیں آتا، کوئی وقت لگا کر تو نہیں پہنچتا وہ صفات کے ساتھ اترتا ہے۔ پس جواتر اہو اس کو دیکھ نہ سکیں ، دیکھیں تو اس کو سمجھ نہ سکیں اور اس پر غور کرنے کی توجہ پیدا نہ ہو یہ اندھی زندگی ہے اور اندھی زندگی کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى (بنی اسرائیل : 73) کہ جو اس دنیا میں اندھا رہا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھے گا ۔ مومن تو اندھا نہیں ہوتا مگر مومن کی دیکھنے کی طاقتوں میں فرق ہے اور روز بروز عرفان کے ساتھ وہ فرق بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو کافر ہے وہ تو کھاتا ہے اللہ کی دین اور ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوچتا کہ دینے والا ہاتھ کون سا ہے۔ مومن الْحَمْدُ لِلَّهِ کہہ کر شکر کر کے روٹی کھا لیتا ہے اور ایک تعلق ربوبیت سے قائم کر لیتا ہے جو باشعور تعلق ہے لیکن وہ روٹی کیسے آئی، ربوبیت کیا معنی رکھتی ہے۔ اس کی تفاصیل ، اس کی کیفیات نہاں در نہاں ، اصل جنت تو وہاں سے شروع ہوتی ہے تو دروازے پر کھڑے ہو جانا اور جنت میں داخل نہ ہونا یہ تو بڑے نقصان کا سودا ہے۔ پس اس پہلو سے اس مضمون کو جو میں شروع کر چکا ہوں اسے آپ کوئی ثانوی ذوقی مضمون نہ سمجھیں کہ اہل علم کی باتیں ہیں وہ سوچتے رہیں ہمیں تو سیدھا سادہ پیغام ملنا چاہئے ۔ سیدھا سادہ