خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد 14 332 خطبہ جمعہ 12 رمئی 1995ء دوسرا جہان بھی ابھرتا چلا جاتا ہے تو سوچ کی کوئی آخری حد ہی باقی نہیں رہتی۔اب یہ مضمون کوئی سمجھے گا کہ شاید علمی جسکے کی باتیں ہیں، بالکل غلط بات ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کا مذہب کی حقیقت سے بنیادی تعلق ہے اور جسے سمجھے بغیر مذہب کی غرض وغایت پوری ہو ہی نہیں سکتی یعنی کچھ نہ کچھ حصہ ہم پاسکتے ہیں جیسے ایک کیڑا اپنے رب کو جانتا ہے لیکن جس مقام پر ہمارا شعور پہنچایا گیا ہے ہمارے لئے جور بوبیت کی مختلف جہتیں کھول دی گئی ہیں۔ان پر غور نہ کرنا تو نسبتی لحاظ سے کیڑا بنے رہنے کی مترادف ہے اور جو لوگ پھر کیڑا بنتے ہیں ان کا ذہن پھر کیڑوں والا ہونا شروع ہو جاتا ہے ان کو رزق سے صرف اتنی نسبت ہے کہ کھایا پیٹ بھرا اور سو گئے اور یا دنیا کے عیشوں میں مبتلا ہوئے اور وہ ہاتھ جس نے رزق دیا ہے اس ہاتھ کی لس تک کو نہیں پہچان سکتے۔صلى الله تو اس لئے جو صفات باری تعالیٰ کا مضمون ہے یہ کوئی محض علمی نخرہ نہیں ہے، یہ حقیقت میں خدا سے تعلق باندھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔جس عظمت کا خدا حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ پر ظاہر ہوا وہ آپ تک محدود رہنے کی خاطر ظاہر نہیں ہوا بلکہ رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: 108 ) کا مطلب ہے اس خدا کے جلوے تمام جہانوں کے لئے میسر فرما دیئے گئے، کسی جہان کے لئے بھی کوئی کنجوسی نہیں کی گئی کسی قسم کی چیز روک نہیں رکھی گئی کل عالم کے لئے دعوت عام دے دی گئی ، یہ خدا جلوہ گر ہوا ہے آؤ اور اس کو دیکھو۔تو اس پر غور کئے بغیر ، اس کی صفات کا سفر کئے بغیر کیسے خدا اپنی پوری شان کے ساتھ نہیں تو کچھ نہ کچھ اس شان کے نمونے کے طور پر ظاہر ہوسکتا ہے جو محمد رسول الله ﷺ پر ظاہر فرمائی گئی اور حقیقت میں ہم اس دنیا میں صفات باری تعالیٰ میں جتنا سفر کرتے ہیں ویسی ہی اپنے لئے جنت بناتے ہیں۔جنتیں بھی بے شمار ہیں اور غیب میں ہیں۔جنتوں میں بھی بہت سے غیوب ہیں اور جنت نام ہے صفات باری تعالیٰ کا، اس کے سوا کوئی جنت نہیں ہے۔”ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں ( کشتی نوح صفحہ ۲۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ فرمایا تو اس میں بہت گہرے علوم بیان فرما دیئے گئے اور فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِى (الفجر: 30 تا 31)۔اس میں بھی جو میری جنت فرمایا گیا ہے وہ دراصل جنت کی وہ اعلیٰ تر صورت کا نام ہے جو خالصۂ صفات باری تعالیٰ سے بنتی ہے اس میں دوسرے کی خواہش کا کوئی دخل نہیں۔رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر: 29) ہو کر داخل ہو۔کس