خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد 14 326 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء ہو دوسرا کوئی اوپر آرہا ہو اور وہ ٹانکے بھرتے چلے جائیں خود بخود اور پھر کھلیں نہ ، پکتے رہیں۔ہر قسم کا تصور اس نے باندھا لیکن ناکام ہو کر تھک گیا۔پھر اس کو کشفاً ایک نظارہ دکھائی دیا وحشیوں سے لڑنے کا اور جس میں نیزے کا جو پھل تھا اس میں وہ آنکھ تھی جو سوئی کی آنکھ ہوتی ہے اس کے پیچھے نہیں تھی۔اس سے پہلے جو سوئی کا تصور انسان کے علم میں تھا وہ سوئی کے نوک کے اوپر آنکھ نہیں تھی پیچھے کی طرف آنکھ تھی اور جو پیچھے آنکھ ہو اس کے ذریعے یہ خود کار مشین ایجاد ہوہی نہیں سکتی تھی۔تو اس نے جب کشفی نظارے میں یا رویا میں دیکھا کہ وہ جو وحشی لڑ رہے ہیں ان کے نیزوں کے اندر آنکھ ہے تو اچانک اس کو روشنی عطا ہوئی اس نے کہا او ہو مجھے بات سمجھ آگئی۔اگر مشین بنانی ہے تو پھل والے حصے میں آنکھ ڈالنی پڑے گی۔اب آپ دیکھ لیں کہ جتنی بھی سوئیاں ہیں مشین کی ان کے پھل کے اندر آنکھ ہوتی ہے تو ایسا ایک واقعہ نہیں، ایسے بہت سے واقعات قطعی شہادتوں کے ساتھ سائنسی تاریخ میں محفوظ ہیں کہ بسا اوقات انسان کو یعنی ایک سائنس دان کو ایک ایسے مرحلے پر آ کر جہاں عقل نے کام چھوڑ دیا الہام نے راہ دکھائی یار و یا اور کشوف نے راہ دکھائی۔پس چونکہ خدا فیصلہ کر چکا تھا اس لئے یہ بھی ضروری تھا کہ جہاں عقل ٹھہر جائے وہاں اللہ انگلی پکڑ کے کہے نہیں کچھ اور آگے چلو اور بان ربک اوحى لها “ اس رنگ میں بھی پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ اللہ کی طرف سے واقعۂ وحی کے ذریعے بعض راہنمائیاں دکھائی دیتی ہیں اور جب ان کا انسان مطالعہ کرتا ہے تو حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ کس طرح ان لوگوں کا جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ان کا کشف اور الہام کے ذریعے غیب کا علم حاصل کر لینا کیا معنے رکھتا ہے۔یہ وہ معنے رکھتا ہے صلى الله که در اصل محمد رسول اللہ ﷺ کا غیب سے تعلق ہے اور اللہ نے آپ کو جو غلبہ عطا کیا ہے غیب پر اس غلبے کے طور پر ان سب کو غلام بنایا گیا ہے۔ان ساری قوموں کو اس غلبے میں مددگار بنانے کے لئے اور وہ انقلاب پیدا کرنے کے لئے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے وابستہ فرمایا گیا ہے غیب سے کچھ حصہ ان کو ملا ہے اور اس کے بغیر دنیا ترقی نہیں کر سکتی۔پس عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ میں مرکزی بات یہ یادرکھیں اور اس پر میں آج خطبے کو ختم کرتا ہوں کہ شہادہ، غیب سے وجود میں آتی ہے۔شہادت سے غیب وجود میں نہیں آتا۔ہر چیز تھی اور رہے گی مگر جب تک انسان پیدا نہیں ہوا صرف اللہ کے علم میں تھی۔جب تک ذی شعور چیز میں پیدا