خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 325
خطبات طاہر جلد 14 325 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء اس قسم کی چیزیں ہوں ہمارے علم کے مطابق تو یہ ممکن نہیں ہے۔مثلاً یہ خیال کہ دنیا میں طاقتور لوگ اور غریب لوگ زمین و آسمان کی حدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کریں گے چھلانگیں لگا کر اس سے آگے جانے کی کوشش کریں گے۔اب کون احمق ہے جو یہ سوچ سکتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کوئی دنیا کا انسان یہ تصور بھی کر سکتا تھا کہ انس ، انسان جن کا ذکر ہے معشر الانس جن کے متعلق تو اپنا غلط تصور پیش کر دیتے ہیں اس لئے میں اس کو چھوڑ رہا ہوں کہ معشر الانس یہ تصور بھی باندھ سکتے تھے اس وقت کہ ہم زمین و آسمان کی اقطار سے باہر نکل جائیں گے۔اڑھائی فٹ کی چھلانگ مارتے تھے یا تین فٹ کی یا دو گز کی کرلیں اس سے اوپر تو چھلانگ لگانے والا ہی آدمی نہیں پیدا ہوا تھا اُس زمانے میں۔اب کچھ معیار بڑے ہوئے ہیں لمبی پریکٹس اور مہارتوں کے نتیجے میں۔تو وہ جس کی چھ فٹ کی چھلانگ ہو اس کے متعلق یہ دعوی کر دینا کہ وہ یہ سوچے گا اور غور کرے گا اور سنجیدگی سے یہ فیصلے کر رہا ہوگا کہ میں زمین و آسمان کی اقطار سے نکل کر باہر چلا جاؤں گا۔کوئی پاگل کا بچہ ہی ہوگا جو یہ کہے کہ انسانی سوچ کی حد کے اندر یہ بات داخل تھی۔پس وہ علم غیب جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا کیا جارہا تھا اس میں کوئی شریک نہیں تھا۔سارا زمانہ تلاش کر کے دیکھیں محمد رسول اللہ اللہ کے سوا کوئی ان علوم میں شریک نہیں تھا جو عالم الغیب کی طرف سے آپ کو عطا ہو رہے تھے۔مگر جس زمانے میں ہم داخل ہوئے ہیں ، جس کی پیش گوئی بھی آنحضرت ﷺ نے اللہ سے علم پا کر دی تھی اس میں انسان بحیثیت انسان کچھ پانے کی صلاحیت حاصل کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔وہاں بھی غلط فہمی دور کی جارہی ہے کہ یہ نہ سمجھ لینا کہ خود ذاتی صلاحیتیں ہیں ، یہ خدا کی تقدیر نے محمد رسول اللہ اللہ کے آخری غلبے کی خاطر جو انسان کی عقلوں میں جلا بخشنی تھی اور زمانے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے جو نئی نئی ایجادات کی ضرورت تھی ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا اورزمین کے خزانوں کو حکم دیا کہ گویا وہ خود نکل کر سامنے آجائیں اور اس الہی تقدیر کے نتیجے میں پھر سائنسوں نے ترقی کی ہے۔اس کے کچھ شواہد ایسے بھی ملتے ہیں جن کا الہام سے کچھ تعلق دکھائی دیتا ہے یعنی انبیاء والا الہام تو نہیں مگر الہام سے ملتی جلتی کیفیات ہیں جو دکھائی دیتی ہیں مثلاً سنگر مشین جو سلائی کی مشین ہے اس کے موجد نے بہت غور کیا اور بہت سوچا کہ میں کیسے ایسی چیز ایجاد کروں کہ ایک دھاگہ نیچے جا رہا