خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد 14 327 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء نہیں ہوئیں ہر چیز پردۂ غیب میں تھی۔اللہ کی ذات بھی غیب میں تھی اور تمام موجودات جو اس کی ذات سے پیدا ہوئی تھیں وہ سب غیب میں تھیں۔تو شہادت غیب کے بطن سے پیدا ہورہی ہے۔جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یہ غیب سے وجود میں آرہا ہے اور شہادت پر غور کریں تو اس کے پیچھے اور غیب دکھائی دتیا ہے اور جب تک پس پردہ غیب کا علم نہ ہو شہادت کا یقین نہیں رہتا ، وہ ریب میں چلی جاتی ہے۔تو تقویٰ ہی کی آنکھ ہے جو اس مضمون میں آپ کی رہنما بن سکتی ہے خواہ وہ روحانی علوم کی جستجو کا سفر ہو یا مادی علوم کی جستجو کا سفر ہو اس آیت کو ہمیشہ اپنے لئے نشانِ راہ بنا رکھیں یہی ہے جو آپ کو منزل کی طرف لے کے جائے گی۔كه ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ صرف متقیوں کو ہدایت دے گی۔متقی کون ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ غیب پر ایمان لائے بغیر غیب سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور ایمان لائے بغیر نہ ان کو عبادت کا ذوق پیدا ہوتا ہے نہ عبادت کے لئے ہمت اور طاقت نصیب ہوتی ہے۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اور پھر جو کچھ خدا نے انہیں دیا وہ خرچ کرتے ہیں۔اس کا بھی غیب سے تعلق ہے کیونکہ ایک ماضی کا غیب ہے ،ایک حاضر کا غیب ،ایک مستقبل کا غیب۔جو دانہ ایک انسان ایک زمیندار زمین میں ملا دیتا ہے ہمٹی میں ملا دیتا ہے، اس کو غیب پر یقین ہے یا ایمان ہے تو ڈالتا ہے۔یقین نہیں ہے مگر ایمان ضرور ہے۔ایمان ہے کہ ہاں ان دانوں میں سے اکثر یا کچھ نہ کچھ تو ضرور اگیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ زیادہ پالیتا ہے۔تو جن کا غیب خدا سے تعلق ہو وہ خدا کی راہ میں بے دھڑک خرچ کرتے ہیں کیونکہ یہاں ان کا ایمان کامل ہوتا ہے اور اپنے تجربے کی بنا پر وہ جانتے ہیں کہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے رزق کو اللہ تعالیٰ کم نہیں کیا کرتا۔ہمیشہ بڑھاتا رہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے علمُ الْغَيْبِ اور عالم الشہادۃ ہونے کی حیثیت سے ہم پر اپنے فضل نازل فرمائے اور اپنی ذات سے ہمیں تعلق جوڑنے میں آسانیاں مہیا فرمائے۔آمین