خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 324

خطبات طاہر جلد 14 324 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء فرمائی۔آپ کے تجربے کو اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ نے سوچا بھی نہیں تھا کہ آئندہ زمانے کی سواریاں کیسی ہوں گی۔آپ کے تصور میں یہ بات نہ آسکتی تھی نہ آئی کہ رستوں ،سڑکوں والا آسمان کیا چیز ہے جس پر سڑکیں بن جائیں گی اور جس پر مرسلات چلیں گی اور با مقصد سفر ہوں گے، کچھ پیغامات لے کر جائیں گی، کچھ چیزیں یہاں پھینکیں گی، کچھ چیزیں وہاں پھینکیں گی۔وہ سارا مضمون کہ پھر آخر صحف نشر کئے جائیں گے۔ایسی چیزیں ایجاد ہو جائیں گی کہ کثرت کے ساتھ کتابیں شائع ہوں گی اور صحیفے ہر طرف پھیلا دیئے جائیں گے ، قانون کی راج دھانی ہوگی ، یہ تمام وہ مضامین ہیں جن کا آنحضرت ﷺ کی سوچوں اور تجارب سے کوئی بھی تعلق نہیں۔پس آپ کے لئے جو غیب،شہادت میں تبدیل فرما دیا گیا وہ خالصہ اللہ کے تعلق سے آپ کو استثنائی طور پر عطا کیا گیا اور زمانے کا کوئی شخص بھی اس سفر میں آپ کا شریک نہیں ہو سکتا تھا۔إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ کا مضمون پوری شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جس میں ذرا بھی شبہ نہیں رہتا۔وہ زمانہ جب ہر انسان محنت کر کے کچھ نہ کچھ تھوڑا تھوڑ اسفر کر کے، ایک دوسرے کو آوازیں دے کر ، ایک دوسرے سے پوچھ کر رستوں کے متعلق فیصلے کرتا ہے کہ یہ رستہ بہتر ہے ، یہ رستہ درست نکلا ، یہ غلط ہو گا ، یہ اجتماعی ایک سفر کی مثال ہے جس میں ہر شخص کے جائزے دوسرے کے لئے مددگار بن رہے ہوتے ہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک ہی انسان ہے جس کو سائنس کی غیب کی باتوں کا علم ہو گیا اور باقی سارے محروم بیٹھے ہوئے ہیں۔پس عُلِمُ الْغَيْبِ سے علم کا عطا ہونا اور معنے رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجے میں، اس کی تقدیر کے نتیجے میں انسان کی عقلوں کو روشن کیا جانا اور انہیں اس قابل بنانا کہ وہ الہی علم کو جو فی پڑا ہوا تھا کچھ بہتر رنگ میں سمجھ سکیں اور ان علمی خزانوں کو جود بے پڑے تھے ہے۔ان پر نظر ڈال کر ان سے استفادہ کر سکیں یہ ایک اور مضمون ہے ان دونوں میں مماثلت کوئی نہیں۔جو چودہ سو سال پہلے کی خبریں رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوگئیں وہ کس کسب سے تعلق رکھتی ہیں، کسی سائنسی تحقیق سے تعلق رکھتی ہیں، کچھ بھی نہیں۔سارا زمانہ محروم تھا اور آپ کو بھی جب علم ہو رہا ہے تو ایسا علم ہورہا ہے جس کا آپ کو ذاتی طور پر کچھ پتا نہیں اور جب بعض ایسی باتیں فرماتے ہیں علم الہی سے حاصل کر کے جو آپ بیان کرتے ہیں اور اس زمانے کے لوگوں کو کچھ سمجھ بھی آتی ہے بہت سی باتیں تو سمجھ آئی ہی نہیں تھیں ان کو۔وہ سمجھتے تھے پتا نہیں کیا باتیں ہورہی ہیں ،شاید مرنے کے بعد کچھ