خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 323
خطبات طاہر جلد 14 323 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء نہیں، یہ خیال کے قصے نہیں ، یہ محض تعلیٰ کے دعوے نہیں، سو فیصدی حقیقت کی باتیں ہیں جو قرآن کے حوالے سے میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔پس الہام کا غیب کو شاہد میں تبدیل کرنے کے ساتھ ایک گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے۔جب تک آسمان پر فیصلہ نہ ہو اس وقت تک زمین والے غیب کا علم حاصل کر ہی نہیں سکتے۔مگر جہاں تک اظہار علی الغیب کا تعلق ہے وہ رسولوں ہی کو عطا ہوتا ہے اور اس غیب کے علم کا اس غیب کے علم کے ساتھ ایک فرق ہے اور وہ فرق اسی مثال سے میں آپ پر ظاہر کروں گا جو میں نے آپ کے سامنے رکھنی ہے۔آج سائنس دان بہت سے مخفی رازوں کو پاگئے جو زمانے کی آنکھوں سے ہزاروں لاکھوں سال سے مخفی پڑے ہوئے تھے ، چھپے ہوئے تھے لیکن کھوج لگا کر ، محنت کر کے رفتہ رفتہ وہ ان میں اتر رہے ہیں اور ہر قدم جو وہ اٹھاتے ہیں وہ اس روشنی کی مدد سے اٹھاتے ہیں جو پہلے سفر نے ان کو عطا کر دی ہے اور وہ کوئی لا محد و دروشنی نہیں ہے جو اپنے زمانے سے آگے نکل کر باتیں کرتی ہو۔انسان جب اندھیرے میں چلتا ہے اگر چہ اس کے ہاتھ میں ٹارچ نہ بھی ہو تو وہ جانتا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد آنکھیں کچھ نہ کچھ اندھیرے میں دیکھنے کی اہلیت حاصل کر لیتی ہیں۔پھر وہ پچھلے سفر کے تجربے سے ایک روشنی لیتا ہے اور ہرا گلا قدم زیادہ احتیاط سے اٹھتا ہے اور زیادہ صحیح سمت میں اٹھتا ہے کیونکہ اندھیرے کے تجربوں نے اس کو ٹھوکر میں لگائیں اسے زخم پہنچائے کہیں وہ گرا ، کہیں وہ لڑکھڑایا اور آہستہ آہستہ اس کے تجربے نے اس کو بتایا کہ یہ چیز جو یوں دکھائی دے رہی ہے یہ ایسی ہوگی۔اس طرح اس کا غیب سے شہادت کی طرف سفر اظہار علی الغیب کہلا ہی نہیں سکتا کیونکہ بڑی محنت کے ساتھ کچھ کچھ دکھائی دینے والا سفر ہے جب وہ اجتماعی شکل اختیار کر لیتا ہے، ایک صدیوں کا علم اکٹھا ہوتا ہے تو ایک عظیم حقیقت دنیا میں ابھر آتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں ایک نئے زمانے میں داخل ہو گئے ہیں۔قرآن کریم جس غیب کی اطلاع دے رہا ہے کہ نبیوں کو جس کو بھی ان میں سے چاہے رسولوں کو ، ان کو اظہار علی الغیب دیتا ہے اس کی مثال قرآن کریم کی ان آیتوں میں ہے جو اس زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے ادنیٰ بھی کھوج لگانے کی زحمت نہیں گوارا