خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 312

خطبات طاہر جلد 14 312 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء جو پہلے بھی معبود تھی ، آج بھی اور کل بھی رہے گی تو اس ذات سے وفا کے تقاضے خوب کھل کر ادا کئے جا سکتے ہیں۔اپنی محبتوں کو چھپانے کی ضرورت نہیں رہتی ، اپنے تعلقات کو کسی حد کے اندر رکھ کر بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔بے دھڑک ہو کر کسی دوسرے کے خوف سے بے نیاز ہوکر اس سے جتنا چاہو محبت کے تعلق باندھو وہ تمہارے لئے فائدہ ہی ہوگا اور اس کے نتیجے میں وہ تمہارے قریب آئے گا اور جو بالا ذات جو مقتدر ہے وہ جتنا قریب آتی ہے اتنا ہی انسان کے اقتدار میں فرق پڑتا ہے۔اب وہ لوگ جو بادشاہ کی مصاحبت پر فخر کرتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں جانتے وہ اگر یہ سوچیں کہ اللہ کی مصاحبت اور اس کے قرب میں ان کو کیا کچھ حاصل ہوگا تو اس سے اس بات کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے اور قرب کے رستے میں شرک حائل ہے۔جہاں بھی شرک ہے وہ قرب کے رستے روکتا ہے۔اگر ایک فرضی خدا کی عبادت کی جا رہی ہے تو اصل خدا سے وہ دور پھینک دے گا۔اگر ایک خدا کی عبادت ہے اور خطرہ ہے کہ اور بھی ہے تو تب بھی قرب کی راہ میں وہ روک بن جاتا ہے۔پس یہ مضمون سمجھنا بہت اہم ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے کے لئے طبیعت میں ایک طبعی جوش پیدا ہوتا ہے اور اس تعلق کے نتیجے میں انسان کو خدا کی طرف سے اقتدار ملتا ہے اور یہ اقتدار جو ہے وہ قرب کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔جتنا کوئی بڑے آدمی کے قریب ہو اتنا ہی لوگ اس کی بات سے ڈرتے ہیں اور کچھ نہ کچھ وہ اقتدار میں حصہ پاتا ہے۔یہ حصہ پانا شرک نہیں ہے۔اس کا تعلق اپنی ذات کو کسی اور ذات میں ڈبو دینے کے ساتھ ہے اور اپنی ذات کو کھو دینے کے ساتھ ہے۔پس خدا تعالیٰ کا اقتدار دو طرح سے دوسرے وجود میں متصور ہوسکتا ہے ایک شرک کے ذریعے جس کو قرآن کریم کی یہ آیت باطل کر رہی ہے۔اس کا کوئی معبود نہیں ، نہ تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اس کا کوئی کسی قسم کا بھی شریک ہو لیکن تم ہو سکتے ہو کہ نہیں کس حد تک؟ اگر ساری خدائی کلیۂ اس کے لئے ہے تو پھر نہیں کیا۔دوسرے کو اس میں دلچسپی کیا ر ہے گی کچھ بھی اس سے حصہ نہیں پاسکتا۔تو فرمایا کہ سب کچھ حصہ پاسکتے ہو لیکن اگر اس کو واحد جان کر اس کے قریب ہو۔پھر وہ ہر چیز جو اس کی ذات میں داخل ہے اس میں سے تمہیں حصہ ملے گا اور قرب کی نسبت سے حصہ ملے گا۔اسی لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صفت مالک کا مظہر صرف محمد رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا کہ مالک تو خدا ہے۔محمد رسول اللہ مالکیت کی صفت سے حصہ