خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 313

خطبات طاہر جلد 14 313 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء صل الله پا کر شریک نہیں بنے کیونکہ کلیہ غلامی کے نتیجے میں یہ ملک عطا ہوئی ہے اور غلامی کی انتہا کے نتیجے میں ہی یہ ملک عطا ہوئی ہے۔پس غلامی اور شرک ، دو چیزیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ہر وہ درجہ جو کامل غلامی سے ملتا ہے اس پر شرک کا شبہ کرنا ہی حماقت ہے۔پس اس پہلو سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کو سمجھیں تو یہ جو دشمن بولتے ہیں ان کی باتوں کی کچھ بھی اہمیت باقی نہیں رہتی کہ دیکھو جی تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کا ایک شریک بنالیا ہے۔شریک کیسے ہوسکتا ہے اگر انسانوں میں سے ہر دوسرے وجود سے تعلق کاٹ کر محمد رسول اللہ ﷺ سے قائم کر لیا جائے اور کامل اطاعت کا تعلق ہو یہاں تک کہ اپنی ذات کو مٹا دیا جائے۔پھر محمد رسول اللہ ﷺ نے اگر اسی مالک سے تعلق باندھا تھا جو قادر مطلق ہے اور واحد و یگانہ ہے اور اس کی ملکیت سے حصہ پایا تھا تو پھر کیا آپ نے شرک کیا یا خدا نے شرک کرنے دیا یا وہ جو یہ بات مانتے ہیں وہ مشرک ہو گئے۔پس اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کے نتیجے میں اپنے فیض سے حصہ دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یا کسی اور کا محمد رسول اللہ ﷺ کے قرب سے فیض نہ پانا بہت بڑا ظلم ہے اور آنحضرت ﷺ کی گستاخی ہے اور اصل ہتک عزت اس بات کی ہے کہ عجیب رسول ہے کہ اللہ سے تو سب کچھ پا لیا جو واحد ولا شریک ہے لیکن بشر ہوتے ہوئے جو پایا اس کو اپنے لئے سمیٹ کر بیٹھ گئے اور جس نے آپ سے وہ سلوک کیا جو آپ نے خدا سے کیا، جس نے آپ سے وہ تعلق باندھا جو آپ نے خدا سے باندھا اس کو اس تعلق کی وہ جزا نہیں دی، یہ ہو نہیں سکتا۔پس حضرت مسیح موعود کے متعلق جو بکواس کی جاتی ہے کہ تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کا شریک بنالیا ہے یہ محض جہالت کی بات ہے۔اس مضمون کو یعنی خدا کی وحدت کی حقیقت کو سمجھنے کے بعد اور اس مضمون کو سمجھنے کے بعد کہ غیر میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اپنے فیض سے وہ اپنے غلاموں کو ضرور فیض یاب فرماتا ہے اور مالا مال فرماتا ہے شریک اور غیر شریک کا یہ جھگڑا ہی پھر اٹھ جاتا ہے۔یہ ماننا پڑتا ہے کہ، وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا ( درشین :۸۴) ہم نے کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلایا ہی نہیں کسی در پہ گئے ہی نہیں اور اے خدا سب سے زیادہ تو گواہ ہے اس بات پر کہ اب یہ ہو گیا تو پھر ،